مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 431 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 431

مجموعہ اشتہارات ۴۳۱ جلد دوم چاہے وہ کر سکے گا۔جیسا کہ یہ زمانہ ہے۔سو کچھ شک نہیں کہ یہ پیشگوئی اسی زمانہ کے لئے تھی اور اسی زمانہ میں پوری ہوئی۔کون ثابت کر سکتا ہے کہ جو اس آیت میں أَذًى كَثِيرًا کا لفظ ایک عظیم الشان ایذاء لسانی کو چاہتا ہے وہ کبھی کسی صدی میں اس سے پہلے اسلام نے دیکھی ہے؟ اس صدی سے پہلے عیسائی مذہب کا یہ طریق نہ تھا کہ اسلام پر گندے اور ناپاک حملے کرے بلکہ اکثر ان کی تحریریں اور تالیفیں اپنے مذہب تک ہی محدود تھیں۔قریباً تیرھویں صدی ہجری سے اسلام کی نسبت بدگوئی کا دروازہ کھلا جس کے اول بانی ہمارے ملک میں پادی فنڈل صاحب تھے۔بہر حال اس پیشگوئی میں مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ جب تم دل آزار کلمات سے دُکھ دیئے جاؤ اور گالیاں سنو تو اس وقت صبر کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔سو قر آنی پیشگوئی کے مطابق ضرور تھا کہ ایسا زمانہ بھی آتا کہ ایک مقدس رسول کو جس کی اُمت سے ایک حصہ کثیر دُنیا کا پُر ہے۔عیسائی قوم جیسے لوگ جن کا تہذیب کا دعوی تھا گالیاں دیتے اور اس بزرگ نبی کا نام نعوذ باللہ زانی اور ڈاکو اور چور رکھتے اور دُنیا کے سب بدتروں سے بدتر ٹھہراتے۔بے شک یہ اُن لوگوں کے لئے بڑے رنج کی بات ہے جو اس پاک رسول کی راہ میں فدا ہیں اور ایک دانشمند عیسائی بھی احساس کر سکتا ہے کہ جب مثلاً ایسی کتاب امہات المومنین میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نعوذ باللہ زنا کار کے نام سے پکارا گیا ہے اور گندے گندے تحقیر کے الفاظ آنجناب کے حق میں استعمال کئے گئے اور پھر عمد اہزار کا پی کی محض دلوں کے دُکھانے کے لئے عام اور خاص مسلمانوں کو پہنچائی گئی اس سے کس قدر درد ناک زخم عام مسلمانوں کو پہنچے ہوں گے۔اور کیا کچھ اُن کے دلوں کی حالت ہوئی ہوگی۔اگر چہ بدگوئی میں یہ کچھ پہلی ہی تحریر نہیں ہے۔بلکہ ایسی تحریروں کی پادری صاحبوں کی طرف سے کروڑ ہا تک نوبت پہنچ گئی ہے۔مگر یہ طریق دل دُکھانے کا ایک نیا طریق ہے کہ خواہ نخواہ غافل اور بے خبر لوگوں کے گھروں میں یہ کتا میں پہنچائی گئیں۔اور اسی وجہ سے اس کتاب پر بہت شور بھی اُٹھا ہے۔باوجود اس بات کے کہ پادری عمادالدین اور پادری ٹھا کر داس کی کتابیں اور نور افشاں کی پچیس سال کی مسلسل تحریریں سختی میں اس سے کچھ کم نہیں ہیں۔یہ تو سب کچھ ہوا۔مگر ہمیں تو آیت موصوفہ بالا میں یہ تاکیدی حکم ہے کہ جب ہم