مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 430

مجموعہ اشتہارات ۴۳۰ جلد دوم اور دوسری جگہ یہ حکم ہے کہ جَادِ لَهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ اس کے معنے یہی ہیں کہ نیک طور پر اور ایسے طور پر جو مفید ہو عیسائیوں سے مجادلہ کرنا چاہیے اور حکیمانہ طریق اور ایسے ناصحانہ طور کا پابند ہونا چاہیے کہ اُن کو فائدہ بخشے۔لیکن یہ طریق کہ ہم گورنمنٹ کی مدد سے یا نعوذ باللہ خوداشتعال ظاہر کریں ہرگز ہمارے اصل مقصود کو مفید نہیں ہے۔یہ دنیاوی جنگ و جدل کے نمونے ہیں اور سچے مسلمان اور اسلامی طریقوں کے عارف ہرگز ان کو پسند نہیں کرتے کیونکہ اُن سے وہ نتائع جو ہدایت بنی نوع کے لئے مفید ہیں پیدا نہیں ہو سکتے۔چنانچہ حال میں پر چہ مخبر دکن میں جو مسلمانوں کا ایک اخبار ہے ماہ اپریل کے ایک پر چہ میں اسی بات پر بڑا زور دیا گیا ہے کہ رسالہ اُمہات المومنین کے تلف کرنے یا روکنے کے لئے گورنمنٹ سے ہرگز التجا کرنی نہیں چاہیے کہ یہ دوسرے پیرا یہ میں اپنے مذہب کی کمزوری کا اعتراف ہے۔جہاں تک ہمیں علم ہے ہم جانتے ہیں کہ اخبار مذکورہ کی اس رائے کی کوئی مخالفت نہیں ہوئی جس سے ہم کہتے ہیں کہ عام مسلمانوں کی یہی رائے ہے کہ اس طریق کو جس کا انجمن مذکور نے ارادہ کیا ہے ہرگز اختیار نہ کیا جائے کہ اس میں کوئی حقیقی اور واقعی فائدہ ایک ذرہ برابر بھی نہیں ہے۔اہل علم مسلمان اس بات کو خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف میں آخری زمانہ کے بارے میں ایک پیشگوئی ہے اور اس کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف سے وصیت کے طور پر ایک حکم ہے جس کو ترک کرنا سچے مسلمانوں کا کام نہیں ہے۔اور وہ یہ ہے کہ لَتُبُلَوُنَّ فِي اَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِينَ اشْرَكُوا أَذًى كَثِيرًا۔وَإِنْ تَصْبِرُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ کے سورۃ آل عمران۔ترجمہ یہ ہے کہ خدا تمہارے مالوں اور جانوں پر بلا بھیج کر تمہاری آزمایش کرے گا اور تم اہل کتاب اور مشرکوں سے بہت سی دُکھ دینے والی باتیں سنو گے سوا گر تم صبر کرو گے اور اپنے تئیں ہر ایک ناکردنی امر سے بچاؤ گے تو خدا کے نزدیک اولوالعزم لوگوں میں سے ٹھہرو گے۔یہ مدنی سورۃ ہے اور یہ اس زمانہ کے لئے مسلمانوں کو وصیت کی گئی ہے کہ جب ایک مذہبی آزادی کا زمانہ ہوگا اور جو کوئی کچھ سخت گوئی کرنا النحل : ١٢٦ ال عمران : ۱۸۷