مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 428
مجموعہ اشتہارات ۴۲۸ جلد دوم دکھانے والے الفاظ سے کام لیا ہے اور زیادہ تر افسوس یہ ہے کہ باوجود ایسی سختی اور بدگوئی کے اپنے اعتراضات میں اسلام کی معتبر کتابوں کا حوالہ بھی نہیں دے سکا۔مگر ہمیں ہر گز نہیں چاہیے کہ بجائے اس کے کہ ایک خطا کار کونرمی اور آہستگی سے سمجھا دیں اور معقولیت کے ساتھ اس کتاب کا جواب لکھیں یہ حیلہ سوچیں کہ گورنمنٹ اس کتاب کو شائع ہونے سے روک لے تا اس طرح پر ہم فتح پالیں کیونکہ یہ فتح واقعی فتح نہیں ہے بلکہ ایسے حیلوں کی طرف دوڑ نا ہمارے بجز اور درماندگی کی نشانی ہوگی اور ایک طور سے ہم جبر سے مُنہ بند کرنے والے ٹھہریں گے۔اور گو گورنمنٹ اس کتاب کو جلا دے تلف کرے، کچھ کرے، مگر ہم ہمیشہ کے لیے اس الزام کے نیچے آجائیں گے کہ عاجز آ کر گورنمنٹ کی حکومت سے چارہ جوئی چاہی۔اور وہ کام لیا جو مغلوب الغضب اور جواب سے عاجز آ جانے والے لوگ کیا کرتے ہیں۔ہاں جواب دینے کے بعد ہم ادب کے ساتھ اپنی گورنمنٹ میں التماس کر سکتے ہیں کہ ہر ایک فریق اس پیرایہ کو جو حال میں اختیار کیا جاتا ہے ترک کر کے تہذیب اور ادب اور نرمی سے باہر نہ جائے۔مذہبی آزادی کا دروازہ کسی حد تک کھلا رہنا ضروری ہے تا مذہبی علوم اور معارف میں لوگ ترقی کریں اور چونکہ اس عائم کے بعد ایک اور عالم بھی ہے جس کے لئے ابھی سے سامان چاہیے اس لئے ہر ایک حق رکھتا ہے کہ نیک نیتی کے ساتھ ہر ایک مذہب پر بحث کرے اور اس طرح اپنے تئیں اور نیز بنی نوع کو نجات اخروی کے متعلق جہاں تک سمجھ سکتا ہے اپنی عقل کے مطابق فائدہ پہنچاوے۔لہذا گورنمنٹ عالیہ میں اس وقت ہماری یہ التماس ہے کہ جو انجمن حمایت اسلام لاہور نے میموریل گورنمنٹ میں اس بارے میں روانہ کیا ہے۔وہ ہمارے مشورہ اور اجازت سے نہیں لکھا گیا بلکہ چند شتاب کاروں نے جلدی سے یہ جرات کی ہے جو درحقیقت قابلِ اعتراض ہے۔ہم ہرگز نہیں چاہتے کہ ہم تو جواب نہ دیں اور گورنمنٹ ہمارے لئے عیسائی صاحبوں سے کوئی باز پرس کرے یا اُن کتابوں کو تلف کرے بلکہ جب ہماری طرف آہستگی اور نرمی کے ساتھ اس کتاب کارڈ شائع ہوگا تو خود وہ کتاب اپنی قبولیت اور وقعت سے گر جائے گی اور اس طرح پر وہ خود تلف ہو جائے گی۔اس لئے ہم بادب ملتمس ہیں کہ اس میموریل کی طرف جو انجمن مذکور کی طرف سے بھیجا گیا