مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 421
مجموعه اشتہارات ۴۲۱ جلد دوم میرے بیان کا انکار کیا ہو اور جب ایسے حلفی رقعے جمع ہو جائیں تو ایک جلسہ بمقام بٹالہ کر کے مجھ کو طلب کرے۔ میں شوق سے ایسے جلسہ میں حاضر ہو جاؤں گا۔ میں ایسے شخص کے رقعہ کو دیکھنا چاہتا ہوں جس نے حلفاً اپنے رقعہ میں یہ بیان کیا ہو کہ محمد حسین نے کرسی نہیں مانگی اور نہ اس کو کوئی جھڑ کی ملی بلکہ عزت کے ساتھ کرسی پر بٹھایا گیا۔ شیخ مذکور کو خوب یادر ہے کہ کوئی شخص اس کے لئے اپنا ایمان ضائع نہیں کرے گا اور ہرگز ہرگز ممکن نہ ہوگا کہ کوئی شخص اشخاص مذکورین میں سے اس کے دعوئی باطل کی تائید میں قسم کھاوے واقعات صحیحہ کو چھپانا بے ایمانوں کا کام ہے۔ پھر کیونکر کوئی معزز شیخ بٹالوی کے لئے مرتکب اس گناہ کا ہوگا اور اگر شیخ بٹالوی کو یہ جلسہ منظور نہیں تو دوسرا طریق تصفیہ یہ ہے کہ بلا توقف ازالہ حیثیت عرفی میں میرے پر نالش کرے کیونکہ اس سے زیادہ اور کیا ازالہ حیثیت عرفی ہوگا کہ عدالت نے اس کو گر سی دی اور میں نے بجائے گر سی جھڑکیاں بیان کیں اور عدالت نے قبول کیا کہ وہ اور اس کا باپ کرسی نشین رئیس ہیں اور میں نے اس کا انکار کیا اور استغاثہ میں وہ یہ لکھا سکتا ہے کہ مجھے عدالت ڈگلس صاحب بہادر میں گرسی ملی تھی اور کوئی جھڑ کی نہیں ملی اور اس شخص نے عام اشاعت کر دی ہے کہ مانگنے پر بھی گر سی نہیں ملی بلکہ جھڑکیاں ملیں ۔ اور ایسا ہی استغاثہ میں یہ بھی لکھا سکتا ہے کہ مجھے قدیم سے عدالت میں گر سی ملتی تھی اور ضلع کے کرسی نشینوں میں میرا نام بھی درج ہے اور میرے باپ کا نام بھی درج تھا لیکن اس شخص نے ان سب باتوں سے انکار کر کے خلاف واقعہ بیان کیا ہے۔ پھر عدالت خود تحقیقات کر لے گی کہ آپ کو کرسی کی طلب کے وقت گرسی ملی تھی یا جھڑکیاں ملی تھیں اور دفتر سے معلوم کر لیا جائے گا کہ آپ اور آپ کے والد صاحب کب سے گرسی نشین رئیس شمار کئے گئے ہیں کیونکہ سرکاری دفتروں میں ہمیشہ ایسے کاغذات موجود ہوتے ہیں جن میں کرسی نشین رئیسوں کا نام درج ہوتا ہے۔ اگر شیخ مذکور نے ان دونوں طریقوں میں سے کوئی طریق اختیار نہ کیا تو پھر نا چار ہمارا یہی قول ہے کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ زیادہ کیا لکھیں ۔ اور یاد رہے کہ ہمیں بالطبع نفرت تھی ۔ ایسے ایک شخصی معاملہ میں قلم اُٹھائیں اور ذاتیات کے جھگڑوں میں اپنے تئیں ڈالیں اور اگر شیخ محمد حسین بٹالوی صرف اسی قدر جھوٹ پر کفایت کرتا کہ مجالس میں ہمارا ذکر درمیان نہ لاتا اور صرف اپنی پردہ پوشی کے لئے گرسی مانگنے کے معاملہ سے انکار کرتا رہتا تو ہمیں