مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 420
مجموعه اشتہارات ۴۲۰ جلد دوم امانت ان لوگوں کی ہے جس سے مجھے اور میری جماعت کو کا فرٹھہرایا اور دنیا میں شور مچایا۔ واضح رہے کہ ہمارے بیان مذکورہ بالا کا گواہ کوئی ایک دو آدمی نہیں بلکہ اس وقت کہ کچہری کے ارد گرد صد ہا آدمی موجود تھے جو کرسی کے معاملہ کی اطلاع رکھتے ہیں۔ صاحب ڈپٹی کمشنر ایم ڈبلیو ڈگلس صاحب بہادر خود اس بات کے گواہ ہیں جنہوں نے بار بار کہا کہ تجھے گرمی نہیں ملے گی۔ بک بک مت کر اور پھر کپتان لیمار چنڈ صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ اس بات کے گواہ ہیں کہ کرسی مانگنے پر محمد حسین کو کیا جواب ملا تھا اور کیسی عزت کی گئی تھی۔ پھر منشی غلام حیدر خاں صاحب سپرنٹنڈنٹ ضلع جواب تحصیلدار ہیں اور مولوی فضل دین صاحب پلیڈر اور لالہ رام بھجدت صاحب وکیل اور ڈاکٹر کلارک صاحب جن کی طرف سے یہ حضرت گواہ ہو کر گئے تھے اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے تمام اردلی یہ سب میرے بیان مذکورہ بالا کے گواہ ہیں اور اگر کوئی مشخص اُن میں سے محمد حسین کی حالت پر رحم کر کے اس کی پردہ پوشی بھی چاہے۔ مگر با ہوں کہ کوئی شخص اس بات پر قسم نہیں کھا سکے گا کہ یہ واقعہ گرمی نہ ملنے اور جھڑ کیاں دینے کا جھوٹ ہے۔ مجھے حیرت پر حیرت آتی ہے کہ اس شخص کو کیا ہو گیا اور اس قدر گندے جھوٹ پر کیوں کمر بستہ کی۔ ذرہ شرم نہیں کی کہ اس واقعہ کے تو صد ہا آدمی گواہ ہیں وہ کیا کہیں گے۔ اس طرح تو آئیندہ مولویوں کا اعتبار اٹھ جائے گا۔ اگر در حقیقت اس شیخ بٹالوی کو گرسی ملی تھی اور صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر نے بڑے اکرام اور اعزاز سے اپنے پاس اُن کو کرسی پر بٹھا لیا تھا تو پتہ دینا چاہیے کہ وہ کرسی کہاں بچھائی گئی تھی شیخ مذکور کو معلوم ہوگا کہ میری کرسی صاحب ڈپٹی کمشنر کے بائیں طرف تھی اور دائیں طرف صاحب ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ کی گرسی تھی اور اسی طرف ایک کرسی پر ڈاکٹر کلارک تھا۔ اب دکھلانا چاہیے کہ کون سی جگہ تھی جس میں شیخ محمد حسین بٹالوی کے لیے گر سی بچھائی گئی تھی۔ سچ تو یہ ہے کہ جھوٹ بولنے سے مرنا بہتر ہے۔ اس شخص نے میری ذلت چاہی تھی اور اسی جوش میں پادریوں کا ساتھ کیا۔ خدا نے اُس کو عین عدالت میں ذلیل کیا۔ یہ حق کی مخالفت کا نتیجہ ہے اور یہ راستباز کی عداوت کا ثمرہ ہے۔ اگر اس بیان میں نعوذ باللہ میں نے جھوٹ بولا ہے تو طریق تصفیہ دو ہیں ۔ اول یہ کہ شیخ مذکور ہر ایک صاحب سے جو ذکر کئے گئے ہیں حلفی رقعہ طلب کرے جس میں قسم کھا کر