مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 419 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 419

مجموعہ اشتہارات ۴۱۹ جلد دوم یہ باتیں غلط ہیں۔ہم اس کے جواب میں بجز اس کے کیا کہیں کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ۔ہم ناظرین کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ بات فی الواقعہ سچ ہے کہ شیخ مذکور نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر سے کرسی مانگی تھی۔اور اس کا اصل سبب یہی تھا کہ مجھے اس نے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے رو بروئے کرسی پر بیٹھے ہوئے دیکھ کر بے اختیاری کے عالم میں اپنی طمع خام کو ظاہر کیا اور نہ چاہا کہ میرا دشمن کرسی پر ہو اور میں زمین پر بیٹھوں۔اس لئے بڑے جوش سے کچہری کے اندر داخل ہوتے ہی گرسی کی درخواست کی اور چونکہ عدالت میں نہ اُس کو اور نہ اُس کے باپ کو گرسی ملتی تھی۔اس لئے وہ درخواست زجر اور توبیخ کے ساتھ رڈ کی گئی۔اور درحقیقت یہ سوال نہایت قابل شرم تھا کیونکہ سچ یہی ہے کہ نہ یہ شخص اور نہ اُس کا باپ رحیم بخش کبھی رئیسان گرسی نشین میں شمار کئے گئے۔اور اگر یہ یا اس کا باپ کرسی نشین تھے تو گویا سرلیپل گریفن نے بہت بڑی غلطی کی کہ جو اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ان دونوں کا نام نہیں لکھا غضب کی بات ہے کہ کہلا نا مولوی اور اس قدر فاش دروغگو ئی اور پھر آپ اپنے خط میں گر سی نہ ملنے کا مجھے سے ثبوت مانگتے ہیں۔گویا اپنی ذلت کو کامل طور پر تمام لوگوں پر ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔اور اپنے خط میں وعدہ کرتے ہیں کہ اگر وہ کا ذب نکلیں تو اپنے تئیں شکست یافتہ تصور کریں گے اور پھر کبھی رڈ وقدح نہیں کریں گے۔افسوس کہ اس شخص کو جھوٹ بولتے ذرہ شرم نہیں آئی۔جھوٹ کہ اَكْبَرُ الْكَبَائِر اور تمام گناہوں کی ماں ہے کس طرح دلیری سے اس شخص نے اس پر زور دیا ہے۔یہی دیانت اور خلاصہ خط یہ ہے۔از مقام بٹالہ مورخہ ۲۸ / ماہ فروری ۱۸۹۸ء نمبر ۱۱۴ میاں غلام احمد صاحب خدا آپ کو راہِ راست پر لاوے اور ضلالت والحاد سے نجات بخشے۔وَالسَّلَامُ عَلى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَی آپ کا خط ۲۸ فروری ۱۹۸ء پہنچا آپ نے کتاب البریت کے صفحہ ۱ او ۱۴ و ۱۵ میں تین دعوی کیے ہیں۔اول یہ کہ محمد حسین نے صاحب ڈپٹی کمشنر سے کرسی طلب کی اور کہا کہ اس کو عدالت میں کرسی ملتی تھی اور اس کے باپ کو عدالت میں کرسی ملتی تھی جس پر صاحب ڈپٹی کمشنر نے اس کو تین جھڑ کیاں دیں اور کہا کہ تو جھوٹا ہے بک بک مت کر۔دوسرا یہ دعویٰ کہ پھر وہ باہر کے کمرے میں ایک کرسی پر جا بیٹھا تو کپتان صاحب پولیس کی نظر اس پر جاپڑی اور اسی وقت کنسٹبل کی معرفت جھڑ کی کے ساتھ اس کرسی سے اٹھایا گیا۔تیسرا یہ دعویٰ کہ پھر وہ ایک شخص کی چادر لے کر اُس پر بیٹھ گیا تو اس شخص نے چادر نیچے سے صحیح لی میرے نزدیک یہ تینوں دعوے محض دروغ ہیں جن میں راستی کا شمہ دخل اور شائبہ بھی نہیں، الخ