مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 408
مجموعہ اشتہارات ۴۰۸ جلد دوم لڑائیوں اور جنگوں سے بیزار ہوگا اور نرمی صلح کاری اور امن کے ساتھ قوموں کو اس بچے ذوالجلال خدا کا چہرہ دکھائے گا جو اکثر قوموں سے چھپ گیا ہے۔میرے اصولوں اور اعتقادوں اور ہدایتوں میں کوئی امر جنگجوئی اور فساد کا نہیں۔اور میں یقین رکھتا ہوں کہ جیسے جیسے میرے مُرید بڑھیں گے ویسے ویسے مسئلہ جہاد کے معتقد کم ہوتے جائیں گے کیونکہ مجھے مسیح اور مہدی مان لینا ہی مسئلہ جہاد کا انکار کرنا ہے۔میں بار بار اعلان دے چکا ہوں کہ میرے بڑے اصول پانچ ہیں اول یہ کہ خدا تعالیٰ کو واحد لاشریک اور ہر ایک منقصت موت اور بیماری اور لاچاری اور درد اور دُکھ اور دوسری نالائق صفات سے پاک سمجھنا۔دوسرے یہ کہ خدا تعالیٰ کے سلسلہ نبوت کا خاتم اور آخری شریعت لانے والا اور نجات کی حقیقی راہ بتلانے والے حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو یقین رکھنا۔تیسرے یہ کہ دین اسلام کی دعوت محض دلائل عقلیہ اور آسمانی نشانوں سے کرنا اور خیالات غازیانہ اور جہاد اور جنگجوئی کو اس زمانہ کے لئے قطعی طور پر حرام اور مقتنع سمجھنا اور ایسے خیالات کے پابند کو صریح غلطی پر قرار دینا۔چوتھے یہ کہ اس گورنمنٹ محسنہ کی نسبت جس کے ہم زیر سایہ ہیں یعنی گورنمنٹ انگلشیہ کوئی مفسدانہ خیالات دل میں نہ لانا اور خلوص دل سے اس کی اطاعت میں مشغول رہنا۔پانچویں یہ کہ بنی نوع سے ہمدردی کرنا اور حتی الوسع ہر ایک شخص کی دُنیا اور آخرت کی بہبودی کے لئے کوشش کرتے رہنا اور امن اور صلح کاری کا مؤید ہونا اور نیک اخلاق کو دُنیا میں پھیلا نا۔یہ پانچ اصول ہیں جن کی اس جماعت کو تعلیم دی جاتی ہے۔اور میری جماعت جیسا کہ میں آگے بیان کروں گا جاہلوں اور وحشیوں کی جماعت نہیں ہے بلکہ اکثر اُن میں سے اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ اور علوم مروجہ کے حاصل کرنے والے اور سرکاری معزز عہدوں پر سرافراز ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ انہوں نے چال چلن اور اخلاق فاضلہ میں بڑی ترقی کی ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ تجربہ کے وقت سرکار انگریزی ان کو اول درجہ کے خیر خواہ پائے گی۔لے اس جہاد کے برخلاف نہایت سرگرمی سے میرے پیر و فاضل مولویوں نے ہزاروں آدمیوں میں تعلیم کی ہے اور کر رہے ہیں جس کا بہت بڑا اثر ہوا ہے۔منہ