مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 406
مجموعہ اشتہارات ۴۰۶ جلد دوم کتاب میں یعنی صفحہ ۵ میں لکھ بھی دیا ہے کہ اس کتاب کی ایک ہزار جلد میں مفت بصیغہ ڈاک ایک ہزار مسلمانوں کی نذر کرتے ہیں اب ظاہر ہے کہ جب ایک ہزار مسلمان کو خواہ نخواہ یہ کتاب بھیج کر اُن کا دل دُکھایا گیا تو کس قدر نقض امن کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔اور یہ پہلی تحریر ی نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی پادری صاحبوں نے بار بار بہت ہی فتنہ انگیز تحریریں شائع کی ہیں اور بے خبر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے وہ کتا میں اکثر مسلمانوں میں تقسیم کی ہیں جن کا ایک ذخیرہ میرے پاس بھی موجود ہے جن میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بدکار ، زانی، شیطان، ڈاکو ، لٹیرا، دغاباز ، دجبال وغیرہ دل آزار ناموں سے یاد کیا ہے اور گو ہماری گورنمنٹ مُحسنہ اس بات سے روکتی نہیں کہ مسلمان بالمقابل جواب دیں لیکن اسلام کا مذہب کا مسلمانوں کو اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی مقبول القوم نبی کو بُرا کہیں بالخصوص حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت جو پاک اعتقاد عام مسلمان رکھتے ہیں اور جس قدر محبت اور تعظیم سے اُن کو دیکھتے ہیں وہ ہماری گورنمنٹ پر پوشیدہ نہیں۔میرے نزدیک ایسی فتنہ انگیز تحریروں کے روکنے کے لئے بہتر طریق یہ ہے کہ گورنمنٹ حالیہ یا تو یہ تدبیر کرے کہ ہر ایک فریق مخالف کو ہدایت فرما دے کہ وہ اپنے حملہ کے وقت تہذیب اور نرمی سے باہر نہ جاوے اور صرف اُن کتابوں کی بناء پر اعتراض کرے جو فریق مقابل کی مسلم اور مقبول ہوں اور اعتراض بھی وہ کرے جو اپنی مسلم کتابوں پر وارد نہ ہو سکے۔اور اگر گورنمنٹ عالیہ یہ نہیں کر سکتی تو یہ تدبیر عمل میں لاوے کہ یہ قانون صادر فرمادے کہ ہر ایک فریق صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کیا کرے اور دوسرے فریق پر ہرگز حملہ نہ کرے۔میں دل سے چاہتا ہوں کہ ایسا ہو اور میں یقیناً جانتا ہوں کہ قوموں میں صلح کاری پھیلانے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی تدبیر نہیں کہ کچھ عرصہ کے لئے مخالفانہ حملے روک دیئے جائیں۔ہر ایک شخص صرف اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے اور دوسرے کا ذکر زبان پر نہ لاوے۔اگر گورنمنٹ عالیہ میری اس درخواست کو منظور کرے تو میں یقیناً کہتا ہوں کہ چند سال میں تمام قوموں کے کینے دُور ہو جائیں گے اور بجائے بغض محبت پیدا ہو جائے گی۔ورنہ کسی دوسرے قانون سے اگر چہ مجرموں سے تمام جیل خانے بھر جائیں