مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 405
مجموعہ اشتہارات ۴۰۵ جلد دوم لوگوں کو معلوم ہو گیا ہے کہ ہماری گورنمنٹ عالیہ نے ہر ایک مذہب کے پیرو کو اپنے مذہب کی تائید میں عام آزادی دی ہے جس سے ہر ایک فرقہ برابر فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔پادریوں کی کوئی خصوصیت نہیں۔غرض ہماری بالمقابل تحریروں سے گورنمنٹ کے پاک ارادوں اور نیک نیتی کا لوگوں کو تجربہ ہو گیا۔اور اب ہزار ہا آدمی انشراح صدر سے اس بات کے قائل ہو گئے ہیں کہ درحقیقت یہ اعلیٰ خوبی اس گورنمنٹ کو حاصل ہے کہ اُس نے مذہبی تحریرات میں پادریوں کا ذرہ پاس نہیں کیا اور اپنی رعایا کو حق آزادی برابر طور پر دیا ہے۔مگر تا ہم نہایت ادب سے گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں عرض ہے کہ اس قدر آزادی کا بعض دلوں پر اچھا اثر محسوس نہیں ہوتا اور سخت الفاظ کی وجہ سے قوموں میں تفرقہ اور نفاق اور بغض بڑھتا جاتا ہے۔اور اخلاقی حالات پر بھی اس کا بڑا اثر ہوتا ہے۔مثلاً حال میں جو اسی ۱۸۹۷ء میں پادری صاحبوں کی طرف سے مشن پریس گوجرانوالہ میں اسلام کے رڈ میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس کا نام یہ رکھا ہے۔" امہات المومنین یعنی دربار مصطفائی کے اسرار کے وہ ایک تازہ زخم مسلمانوں کے دلوں کو پہنچانے والی ہے اور یہ نام ہی کافی ثبوت اس تازہ زخم کا ہے اور اس میں اشتعال دہی کے طور پر ہمارے نبی صل اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی ہیں اور نہایت دلآ زار کلے استعمال کئے ہیں۔مثلاً اس کے صفحہ ۸۰ سطر ۲۱ میں یہ عبارت ہے ہے ” ہم تو یہی کہتے ہیں کہ محمد صاحب نے خدا پر بہتان باندھا زنا کیا اور اوس کو حکم خدا بتلایا۔ایسے کلمات کس قد ر مسلمانوں کے دلوں کو دُکھا ئیں گے کہ اُن کے بزرگ اور مقدس نبی کو صاف اور صریح لفظوں میں زانی ٹھہرایا اور پھر دل دُکھانے کے لئے ہزار کا پی اس کتاب کی مسلمانوں کی طرف مفت روانہ کی گئی ہے۔چنانچہ آج ہی کی تاریخ جو۵ ارفروری ۱۸۹۸ء ہے ایک جلد مجھ کو بھی بھیج دی ہے لیے حالانکہ میں نے طلب نہیں کی اور اس لے اس کتاب کو پر سوتم داس عیسائی نے گوجرانوالہ شعلہ طور پر لیس سے شائع کیا ہے۔سے ہمارے بہت سے معزز دوستوں کے بھی اس بارے میں خطوط پہنچے ہیں کہ اُن کو مفت بلا طلب یہ کتاب بھیجی گئی ہے۔