مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 400
مجموعہ اشتہارات ۴۰۰ جلد دوم کسی بناوٹ اور ریا کاری سے بلکہ محض اس اعتقاد کی تحریک سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل میں ہے بڑے زور سے بار بار اس بات کو مسلمانوں میں پھیلایا ہے کہ اُن کو گورنمنٹ برطانیہ کی جو درحقیقت اُن کی محسن ہے سچی اطاعت اختیار کرنی چاہیے اور وفاداری کے ساتھ اُس کی شکر گزاری کرنی چاہیے ورنہ خدا تعالیٰ کے گنہگار ہوں گے۔اور میں دیکھتا ہوں کہ مسلمانوں کے دل پر میری تحریروں کا بہت ہی اثر ہوا ہے اور لاکھوں انسانوں میں تبدیلی پیدا ہوگئی۔اور میں نے نہ صرف اسی قدر کام کیا کہ برٹش انڈیا کے مسلمانوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی اطاعت کی طرف جھکایا بلکہ بہت سی کتابیں عربی اور فارسی اور اردو میں تالیف کر کے ممالک اسلامیہ کے لوگوں کو بھی مطلع کیا کہ ہم لوگ کیونکر امن اور آرام اور آزادی سے گورنمنٹ انگلشیہ کے سایہ عاطفت میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور ایسی کتابوں کے چھانے اور شائع کرنے میں ہزار ہا روپیہ خرچ کیا گیا۔مگر با ایں ہمہ میری طبیعت نے کبھی نہیں چاہا کہ ان متواتر خدمات کا اپنے حکام کے پاس ذکر بھی کروں کیونکہ میں نے کسی صلہ اور انعام کی خواہش سے نہیں بلکہ ایک حق بات کو ظاہر کرنا اپنا فرض سمجھا اور درحقیقت وجود سلطنت انگلشیہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے لئے ایک نعمت تھی جو مدت دراز کی تکلیفات کے بعد ہم کو ملی اس لئے ہمارا فرض تھا کہ اُس نعمت کا بار بار ا ظہار کریں۔ہمارا خاندان سکھوں کے ایام میں ایک سخت عذاب میں تھا اور نہ صرف یہی تھا کہ انہوں نے ظلم سے ہماری ریاست کو تباہ کیا اور ہمارے صد ہادیہات اپنے قبضہ میں کئے بلکہ ہماری اور تمام پنجاب کے مسلمانوں کی دینی آزادی کو بھی روک دیا۔ایک مسلمان کو بانگ نماز پر بھی مارے جانے کا اندیشہ تھا چہ جائیکہ اور رسوم عبادت آزادی سے بجا لا سکتے۔پس یہ اس گورنمنٹ محسنہ کا ہی احسان تھا کہ ہم نے اس جلتے ہوئے تنور سے خلاصی پائی اور خدا تعالیٰ نے ایک ابر رحمت کی طرح اس گورنمنٹ کو ہمارے آرام کے لئے بھیج دیا