مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 399
مجموعہ اشتہارات ۳۹۹ جلد دوم اور سرلیپل گرفن صاحب نے اپنی کتاب تاریخ رئیسان پنجاب میں ہمارے خاندان کا ذکر کر کے میرے بھائی مرزا غلام قادر کی خدمات کا خاص کر کے ذکر کیا ہے جو اُن سے تِمو کے پل پر باغیوں کی سرزنش کے لئے ظہور میں آئیں۔ان تمام تحریرات سے ثابت ہے کہ میرے والد صاحب اور میرا خاندان ابتداء سے سرکا را نگریزی کے بدل و جان ہوا خواہ اور وفادار رہے ہیں اور گورنمنٹ عالیہ انگریزی کے معزز افسروں نے مان لیا ہے کہ یہ خاندان کمال درجہ پر خیر خواہ سرکا را نگریزی ہے۔اور اس بات کے یاد دلانے کی ضرورت نہیں کہ میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضی ان کرسی نشین رئیسوں میں سے تھے کہ جو ہمیشہ گورنری دربار میں عزت کے ساتھ بلائے جاتے تھے اور تمام زندگی اُن کو گورنمنٹ عالیہ کی خیر خواہی میں بسر ہوئی۔(۲) دوسرا امر قابل گزارش یہ ہے کہ میں ابتدائی عمر سے اس وقت تک جو قریباً ساٹھ برس کی عمر تک پہنچا ہوں اپنی زبان اور قلم سے اس اہم کام میں مشغول ہوں کہ تا مسلمانوں کے دلوں کو گورنمنٹ انگلشیہ کی سچی محبت اور خیر خواہی اور ہمدردی کی طرف پھیروں اور اُن کے بعض کم فہموں کے دلوں سے غلط خیال جہاد وغیرہ کے دُور کروں جو اُن کو دلی صفائی اور مخلصانہ تعلقات سے روکتے ہیں۔اور اس ارادہ اور قصد کی اوّل وجہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بصیرت بخشی اور اپنے پاس سے مجھے ہدایت فرمائی کہ تا میں ان وحشیانہ خیالات کو سخت نفرت اور بیزاری سے دیکھوں جو بعض نادان مسلمانوں کے دلوں میں مخفی تھے جن کی وجہ سے وہ نہایت بیوقوفی سے اپنی گورنمنٹ محسنہ کے ساتھ ایسے طور سے صاف دل اور سچے خیر خواہ نہیں ہو سکتے تھے جو صاف دلی اور خیر خواہی کی شرط ہے بلکہ بعض جاہل ملاؤں کے ورغلانے کی وجہ سے شرائط اطاعت اور وفاداری کا پورا جوش نہیں رکھتے تھے۔سو میں نے نہ