مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 395

مجموعه اشتہارات ۳۹۵ جلد دوم L (۱) بترسید از خدائے بے نیاز و سخت قہارے نه پندارم که بیند خدا ترسے نکو کار سے (۲) مرا باور نمی آید کے رسوا گردد آن مردے که می ترسد ازاں یارے کی غفارست وستارے (۳) گر آن چیزی که می بینم عزیزان نیز دیدندی ز دنیا توبه کردندے بچشم زار و خونبارے (۴) خور تاباں سیہ گراں ست از بدکاری مردم زمیں طاعوں ہمی آرد پئے تخویف و انذارے (۵) به تشویش قیامت ماند این تشویش گر بینی علاجے نیست بہر دفع آں جو حُسن کردارے (۶) نشاید تافتن سرزاں جناب عزت و غیرت که گر خواهد گشد در یکدے چوں کرم بیکارے (۷) من از همدردی است گفتم تو خود هم فکر گن باری خرد از بہرائیں روز ست اے دانا و ہشیارے راق خاکسار میرزاغلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور پنجاب ۶ رفروری ۱۸۸۹ء گلزار محمدی پر لیس لاہور بازار کشمیری ( یہ اشتہار ۳۶ کے چار صفحوں پر ہے ) روحانی خزائن جلد ۴ ۱ صفحه ۳۵۸ تا ۳۶۳) ا ترجمہ اشعار (1) لوگو ! بے نیاز اور سخت قہار خدا سے ڈرو میں نہیں سمجھتا کہ متقی اور نیک آدمی کبھی نقصان اٹھا تا ہو (۲) مجھے یقین نہیں آتا کہ وہ شخص کبھی رسوا ہوا ہو جو اس یار سے ڈرتا ہے جو غفا روستا رہے (۳) اگر وہ چیز جسے میں دیکھ رہا ہوں دوست بھی دیکھتے تو حصول دنیا سے رورو کر تو بہ کرتے (۴) لوگوں کی بدکاریوں سے چمکتا ہوا سورج بھی سیاہ ہو گیا اور زمین بھی ڈرانے کی خاطر طاعون لا رہی ہے (۵) یہ مصیبت قیامت کی مانند ہے اگر تو غور ہوگیا کرے اور اس کے دور کرنے کا علاج سوائے نیک اعمال کے اور کچھ نہیں (۶) اس بارگاہ عالی سے سرکشی نہیں کرنی چاہیے اگر وہ چاہے تو ایک دم میں لکھے کیڑے کی طرح تجھے فنا کر دے (۷) میں نے ہمدردی سے یہ بات کہی ہے اب تو خود غور کرلے ۔ اسے سمجھ دار انسان عقل اسی دن کے لیے ہوا کرتی ہے۔