مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 381 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 381

مجموعہ اشتہارات ۳۸۱ جلد دوم ڈالتا اور آثار خوف ظاہر کرتا ہے۔اس لئے میں مناسب دیکھتا ہوں کہ اس خط کو جو میرے پاس پہنچا تھا بعض ضروری اختصار کے ساتھ شائع کر دوں۔اور بزرگ موصوف کا یہ اصل خط اس وجہ سے بھی شائع کرنے کے لائق ہے کہ میں اس اصل خط کو بہت سے لوگوں کو سنا چکا ہوں اور ایک جماعت کثیر اس کے مضمون سے اطلاع پا چکی ہے اور بہت سے لوگوں کو بذریعہ خطوط اس کی اطلاع بھی دی گئی ہے اب جبکہ چودھویں صدی کے پرچہ کو وہ لوگ پڑھیں گے تو ضرور ان کے دل میں یہ خیالات پیدا ہوں گے کہ جو کچھ زبانی ہمیں سنایا گیا اس میں کئی ایسی باتیں ہیں جو شائع کردہ خط میں نہیں ہیں۔اور ممکن ہے کہ ہمارے بعض کو نہ اندیش مخالفوں کو یہ بہانہ ہاتھ آجائے کہ گویا ہم نے نج کے خط میں اپنی طرف سے کچھ زیادت کی تھی۔لہذا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس اصل خط کو چھاپ دیا جائے۔مگر یادر ہے کہ چودھویں صدی کے خط میں جس قدر اختصار کیا گیا ہے یہ کسی کا قصور نہیں ہے۔اختصار کے لئے میں نے ہی اجازت دی تھی مگر اس اجازت کے استعمال میں کسی قدر غلطی ہوگئی ہے لہذا اب اس کی اصلاح ضروری ہے۔اس تمام قصے کے لکھنے سے غرض یہ ہے کہ ہماری جماعت اور تمام حق کے طالبوں کے لئے یہ بھی ایک خدا کا نشان ہے اور جناب سرسید احمد خان صاحب بالقابہ کے غور کرنے کے لئے یہ تیسرا نمونہ ہے کہ کیونکہ اللہ جل شانہ اپنے بندوں کی دُعائیں قبول کر لیتا ہے سید صاحب موصوف کا یہ قول نہایت صحیح ہے کہ ہر ایک دُعا منظور نہیں ہو سکتی۔بعض دعا ئیں منظور ہو جاتی ہیں۔مگر کاش سید صاحب کی پہلی تحریر میں اس آخری تحریر کے مطابق ہوتیں۔اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ بزرگ موصوف جن کا خط ذیل میں لکھا جاتا ہے کچھ عام لوگوں میں سے نہیں ہیں بلکہ جہاں تک میرا خیال ہے وہ ایک بڑے ذی علم اور علماء وقت میں سے ہیں اور کئی لوگوں سے میں نے سنا ہے کہ اُن کو الہام بھی ہوتا ہے اور اس خط میں انہوں نے اپنے الہام کا ذکر بھی کیا ہے علاوہ ان سب باتوں کے وہ بزرگ پنجاب کے معزز رئیسوں اور جاگیر داروں میں سے ہیں اور ایک مدت سے گورنمنٹ عالیہ انگریزی کی طرف سے ایک معزز عہدہ حکومت پر بھی ممتاز ہیں۔چونکہ پرچہ چودھویں صدی میں بھی اس بزرگ کے منصب اور مرتبت کا اس قدر ذکر ہو چکا ہے لہذا