مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 380 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 380

مجموعہ اشتہارات ۳۸۰ ١٨٦ جلد دوم اخبار چودھویں صدی والے بزرگ کی تو بہ علاوہ اور نشانوں کے یہ بھی ایک عظیم الشان نشان ہے جو حال میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہوا۔ناظرین کو یاد ہوگا کہ ایک بزرگ نے جو ہر ایک طرح سے دنیا میں معزز اور رئیس اور اہل علم بھی ہیں اس عاجز کے حق میں ایک دل آزار کلمہ یعنی مثنوی رومی کا یہ شعر پڑھا تھا جو پرچہ چودھویں صدی ماہ جون ۱۸۹۷ء میں شائع ہوا تھا اور وہ یہ ہے چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد میلش اندر طعنه پاکاں برد سواس رنج کی وجہ سے جو اس عاجز کے دل کو پہنچا اس بزرگ کے حق میں دعا کی گئی تھی کہ یا تو دا تعالی اس کوتو بہ اور پشیمانی بخش اور یا کوئی تنبیہ نازل کرے۔سوخدا نے اپنے فضل اور رحم سے اس کو توفیق تو به عنایت فرمائی اور اس بزرگ کو الہام کے ذریعہ سے اطلاع دی کہ اس عاجز کی دعا اس کے بارے میں قبول کی گئی اور ایسا ہی معافی بھی ہوگی۔سو اس نے خدا سے یہ الہام پا کر اور آثار خوف دیکھ کر نہایت انکسار اور تذلیل سے معزرت کا خط لکھا۔وہ خط کسی قدر اختصار سے پرچہ چودہویں صدی ماہ نومبر ۱۸۹۷ء میں چھپ بھی گیا ہے۔مگر چونکہ اس اختصار میں بہت سے ایسے ضروری امور رہ گئے ہیں جن سے یہ ثبوت ملتا ہے کہ کیونکر خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاؤں کو قبول کرتا اور ان کے دلوں پر رعب ے ترجمہ۔خدا تعالیٰ جب کسی کا پردہ چاک کرنا چاہتا ہے تو اس کی طبع میں پاک لوگوں پر طعنہ زنی کا میلان پیدا کر دیتا ہے۔