مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 371
مجموعہ اشتہارات جلد دوم اپنے اشتہار مورخہ ۲۴ رمئی ۱۸۹۷ء میں شائع کر دیا ہے وہی اشتہار تھا جس کی وجہ سے بعض مسلمان اڈیٹروں نے بڑی مخالفت ظاہر کی اور بڑے جوش میں آکر مجھ کو گالیاں دیں کہ یہ شخص سلطنت انگریزی کو سلطان روم پر ترجیح دیتا ہے اور رومی سلطنت کو قصور وار ٹھہراتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ جس شخص پر خود قوم اس کی ایسے ایسے خیالات رکھتی ہے اور نہ صرف اختلاف اعتقاد کی وجہ سے بلکہ سرکار انگریزی کی خیر خواہی کے سبب سے بھی ملامتوں کا نشانہ بن رہا ہے کیا اس کی نسبت یہ ظن ہو سکتا ہے کہ وہ سرکار انگریزی کا بدخواہ ہے؟ یہ بات ایک ایسی واضح تھی کہ ایک بڑے سے بڑے دشمن کو بھی جو محمد حسین بٹالوی ہے صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر کے حضور میں اسی مقدمہ ڈاکٹر ہنری کلارک میں اپنی شہادت کے وقت میری نسبت بیان کرنا پڑا کہ یہ سرکار انگریزی کا خیر خواہ اور سلطنت روم کے مخالف ہے۔اب اس تمام تقریر سے جس کے ساتھ میں نے اپنی سترہ سالہ مسلسل تقریروں سے ثبوت پیش کئے ہیں صاف ظاہر ہے کہ میں سرکا ر انگریزی کا بدل و جان خیر خواہ ہوں۔اور میں ایک شخص امن دوست ہوں اور اطاعت گورنمنٹ اور ہمدردی بندگان خدا کی میرا اصول ہے اور یہ وہی اصول ہے جو میرے مریدوں کی شرائط بیعت میں داخل ہے۔چنانچہ پر چہ شرائط بیعت جو ہمیشہ مریدوں میں تقسیم کیا جاتا ہے اس کی دفعہ چہارم میں ان ہی باتوں کی تصریح ہے۔ہاں یہ بیچ ہے کہ میں نے بعض اشخاص کی موت وغیرہ کی نسبت پیش گوئی کی ہے لیکن نہ اپنی طرف سے بلکہ اس وقت اور اس حالت میں کہ جب کہ ان لوگوں نے اپنی رضا و رغبت سے ایسی پیشگوئی کے لئے مجھے تحریری اجازت دی چنانچہ ان کے ہاتھ کی تحریریں اب تک میرے پاس موجود ہیں جن میں سے بعض ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ میں شامل مثل کی گئی ہیں۔مگر چونکہ باوجود اجازت دینے کے پھر بھی ڈاکٹر کلارک صاحب نے ان پیشگوئیوں کا ذکر کیا اور اصل واقعات کو چھپایا اس لئے آئندہ ے بعض ہمارے مخالف جن کو افترا اور جھوٹ بولنے کی عادت ہے لوگوں کے پاس کہتے ہیں کہ صاحب ڈپٹی کمشنر نے آئندہ پیشگوئیاں کرنے سے منع کر دیا ہے خاص کر ڈرانے والی پیشگوئیوں اور عذاب کی پیشگوئیوں سے سخت ممانعت کی ہے۔سو واضح رہے کہ یہ باتیں سراسر جھوٹی ہیں ہم کو کوئی ممانعت نہیں ہوئی اور عذابی پیشگوئیوں میں جس طریق کو ہم نے اختیار کیا ہے یعنی رضا مندی لینے کے بعد پیشگوئی کرنا اس طریق پر عدالت اور قانون کا کوئی اعتراض نہیں۔منہ