مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 365
مجموعہ اشتہارات ۳۶۵ جلد دوم ڈسٹرکٹ سپرنٹنڈنٹ کو پولیس کے افسروں نے خبر دی کہ عبدالحمید منجر اپنے پہلے بیان پر اصرار کر رہا ہے اس کو رخصت کیا جائے تو صاحب موصوف کے کانشنس نے یہی تقاضا کیا کہ وہ بذات خود بھی اس سے دریافت کریں۔اگر حکام کی اس درجہ تک نیک نیتی اور توجہ اور محنت کشی نہ ہوتی تو ہرگز ممکن نہ تھا کہ اس مقدمہ کی اصلیت کھلتی۔ہم نہ دل سے دعا کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ایسے حکام کو جو ہر ایک جگہ انصاف اور عدل کو مدنظر رکھتے ہیں اور پوری تحقیق سے کام لیتے ہیں اور احکام کے صادر کرنے میں جلدی نہیں کرتے ہمیشہ خوش رکھے اور ہر ایک بلا سے ان کو محفوظ رکھ کر اپنے مقاصد میں کامیاب کرے۔یہ بات بھی اس جگہ بیان کر دینے کے لائق ہے کہ ڈاکٹر کلارک صاحب نے محض ظلم اور جھوٹ کی راہ سے اپنے بیان میں کئی جگہ میرے چال چلن پر نہایت شرمناک حملہ کیا تھا۔اگر ایسے منصف مزاج مجسٹریٹ کی عدالت میں ان تمام حملوں کے بارے میں میرا جواب لیا جاتا تو ڈاکٹر صاحب کے منصوبوں کی حقیقت کھل جاتی مگر چونکہ حاکم انصاف پسند کے دل پر اس مقدمہ کی مصنوعی بنیاد کی تمام حقیقت کھل گئی تھی جس کی تائید میں یہ تمام الزامات پیش کئے گئے تھے لہذا عدالت نے مقدمہ کو طول دینے کی ضرورت نہیں سمجھی اگر چہ ڈاکٹر صاحب کے اکثر کلمات جو نہایت دل آزار اور سراسر جھوٹ اور افترا اور کم سے کم ازالہ حیثیت عرفی کی حد تک پہنچ گئے تھے مجھے یہ حق دیتے تھے کہ ان بے جا اور باطل الزاموں کا عدالت کے ذریعہ سے تدارک کروں۔مگر میں باوجود مظلوم ہونے کے کسی کو آزار دینا نہیں چاہتا اور ان تمام باتوں کو حوالہ بخدا کرتا ہوں۔یہ بھی ذکر کے لائق ہے کہ ڈاکٹر کلارک صاحب نے اپنے بیان میں کہیں اشارہ اور کہیں صراحتاً میری نسبت بیان کیا ہے کہ گویا میرا وجود گورنمنٹ کے لئے خطرناک ہے۔مگر میں اس اشتہار کے ذریعہ سے حکام کو اطلاع دیتا ہوں کہ ایسا خیال میری نسبت ایک ظلم عظیم ہے۔میں ایک ایسے خاندان سے ہوں کہ جو اس گورنمنٹ کا پکا خیر خواہ ہے۔میرا والد میرزا غلام مرتضی گورنمنٹ کی نظر میں ایک وفادار اور خیر خواہ آدمی تھا جن کو دربار گورنری میں کرسی ملتی