مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 354
مجموعہ اشتہارات ۳۵۴ جلد دوم السَّمَاءِ نہیں کہا بلکہ رَافِعُكَ إِلَيَّ فرمایا تا رفع جسمانی کا شبہ نہ گذرے۔کیونکہ جو خدا کی طرف جاتا ہے وہ روح سے جاتا ہے نہ جسم سے۔ارجعی الی ربکے اس کی نظیر ہے۔غرض اس طرح پر یہ جھگڑا فیصلہ پایا مگر ہمارے نادان مخالف جو رفع آسمانی کے قائل ہیں وہ اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جسمانی رفع امر متنازع فیہ نہ تھا۔اور اگر اس بے تعلق امر کو بفرض محال قبول کر لیں تو پھر یہ سوال ہوگا کہ جو روحانی رفع کے متعلق یہود اور نصاریٰ میں جھگڑا تھا اس کا فیصلہ قرآن کی کن آیات میں فرمایا گیا ہے۔آخر لوٹ کر اسی طرف آنا پڑے گا کہ وہ آیات یہی ہیں۔یہ تو نفلی طور پر ہمارا الزام مخالفین پر ہے۔اور ایسا ہی عقلی طور پر بھی وہ ملزم ٹھہرتے ہیں کیونکہ جب سے دنیا کی بناء ڈالی گئی ہے یہ عادت اللہ نہیں کہ کوئی شخص زندہ اسی جسم عنصری کے ساتھ کئی سوسال آسمان پر بود و باش اختیار کرے اور پھر کسی دوسرے وقت زمین پر اتر آوے۔اگر یہ عادت اللہ ہوتی تو دنیا میں کئی نظیر میں اس کی پائی جاتیں۔یہودیوں کو یہ گمان تھا کہ ایلیا آسمان پر گیا اور پھر آئے گا مگر خود حضرت مسیح نے اس گمان کو باطل ٹھہرایا اور ایلیا کے نزول سے مراد یوحنا کو لے لیا جو اسلام میں بیٹی کے نام سے موسوم ہے۔حالانکہ ظاہر نص یہی کہتا تھا کہ ایلیا واپس آئیگا ہر ایک فوق العادت عقیدہ کی نظیر طلب کر نامحققوں کا کام ہے تاکسی گمراہی میں نہ پھنس جائیں۔کیونکہ جو بات خدا کی طرف سے ہو اس کے اور بھی نظائر پائے جاتے ہیں۔اور یہ بات سچ ہے کہ اس دنیا میں واقعات صحیحہ کے لئے نظیریں ہوتی ہیں مگر باطل کے لئے کوئی نظیر نہیں ہوتی۔اسی اصول محکم سے ہم عیسائیوں کے عقیدہ کو رد کرتے ہیں۔خدا نے دنیا میں جو کام کیا وہ اس کی عادت اور سنت قدیم میں ضرور داخل ہونا چاہیے۔سواگر خدا نے دنیا میں ملعون اور مصلوب ہونے کے لئے اپنا بیٹا بھیجا تو ضرور یہ بھی اس کی عادت ہوگی کہ کبھی بیٹا بھی بھیج دیتا ہے۔پس ثابت کرنا چاہیے کہ پہلے اس سے اس کے کتنے بیٹے اس کام کے لئے آئے۔کیونکہ اب اگر بیٹا بھیجنے کی ضرورت پڑی ہے تو پہلے بھی اس از لی خالق کو کسی نہ کسی زمانہ میں ضرورت پڑی ہو گی۔غرض خدا تعالیٰ کے سارے کام سنت الفجر : ٢٩