مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 303
مجموعہ اشتہارات جلد دوم اس کی عظمت کو بالکل بھلا دینا بے ایمانی ہے یا نہیں۔جن دلوں پر خدا کی لعنت ہے اُن کا تو کچھ علاج نہیں لیکن عقلمند اور ایماندار جانتے ہیں کہ ایسے شخص کے ساتھ جس کو خدا آسمانی خلافت دے کر ایک عظیم الشان کام کے لئے بھیجتا ہے روم کے ایک ظاہری فرمانروا کو کیا نسبت ہے؟ لے یا درکھو کہ خدا کے فرستادہ کی توہین ہے۔چاہو تو مجھے گالیاں دو تمہارا اختیار ہے کیونکہ آسمانی سلطنت تمہارے نزدیک حقیر ہے۔سلطان کا خلیفہ المؤمنین ہونا صرف اپنے منہ کا دعویٰ ہے لیکن وہ خلافت جس کا آج سے سترہ برس پہلے براہین احمدیہ اور نیز ازالہ اوہام میں ذکر ہے حقیقی خلافت وہی ہے۔کیا وہ الہام یاد نہیں ؟ أَرَدْتُ اَنْ اَسْتَخْلِفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ۔خَلِيفَةَ اللَّهِ السُّلْطَان۔ہاں ہماری خلافت روحانی ہے اور آسمانی ہے نہ زمینی۔یہ قاعدہ ہے کہ جس شخص کو انسان حقیر اور ذلیل جانتا ہے اس کو ایسے شخص کے مقابل پر بات کرنے سے بے ادب خیال کرتا ہے جس کو وہ عظیم الشان سمجھتا ہے جیسا کہ لکھا ہے کہ جب یسوع مسیح نے سردار کا ہن کے سامنے ایک بات کہی جو سردار کا بہن کو بُری معلوم ہوئی تو ایک سپاہی نے مسیح کے منہ پر طمانچہ مار کر کہا کہ کیا تو سردار کا ہن کی بے ادبی کرتا ہے؟ کیونکہ اس وقت اُن لوگوں کی نظر میں حضرت عیسی مسیح ایک حقیر اور ذلیل آدمی تھا جو کا ذب اور کا فرخیال کیا گیا۔پس جبکہ سردار کا ہن کی دنیوی عزت کے لئے مسیح نے ایک ادنی سپاہی کے ہاتھ سے طمانچہ کھایا تو پھر وہ شخص جو مسیح کے نام پر آیا ہے اگر سلطان روم کے جاہل حمایتیوں نے منہ سے گالیاں سنے تو کیا بعید ہے۔رہی یہ بات کہ اشتہار مذکور میں انگریزی سلطنت کی تعریف کی گئی ہے۔سویا در ہے کہ یہ ہرگز منافقانہ تعریف نہیں لَعْنَةُ اللهِ عَلَى مَنْ نَافَقَ۔بلکہ ہم سچے دل سے کہتے ہیں اور صحیح صحیح کہتے ہیں کہ اس گورنمنٹ کے ذریعہ سے ہم نے بہت امن پایا ہے۔اس لئے اس کا شکر ہم پر واجب ہے۔اور له ابن سیرین رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ مہدی موعود بعض نبیوں سے بھی افضل ہے۔پس ایسے لوگوں کی حالت پر سخت افسوس ہے جو ایک بادشاہ کے لئے جو دنیوی زندگی رکھتا ہے مجھ کو جو اپنے مہدی موعود ہونے کا دلائل کے ساتھ ثبوت دیتا ہوں گالیاں دیتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ سراسر دنیا کے کیڑے ہو گئے ہیں۔خدا اور رسول پر ان کا ایمان نہیں رہا۔منہ