مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 298

جلد دوم مجموعہ اشتہارات ترجمه از مرتب ۲۹۸ نقل اس خط کی جو سفیر نے لاہور سے ہماری ملاقات کی درخواست کے لئے بھیجا تھا۔بسم اللہ الرحمن الرحیم جناب مستطاب مُعلی القاب قدوة المتقين قطب العارفین حضرت پیر دستگیر میرزا غلام احمد صاحب دام کراماتہ چوں اوصاف جمیلہ واخلاق حمیدہ آں ذات ملکوتی صفات شہر لاہور میں ممنونیت کے کانوں سے کہ آپ کے سعادت مند مریدوں سے ہوں اور آپ کی تصانیف عالیہ جو مبارک مقام ہیں احترام اور ممنونیت کے ہاتھ سے پہنچیں۔اس لئے زیارت کا جنوں ہوا۔تا کہ چمکیلے اور بھڑکتے ہوئے انوار کا دیدار کر سکوں اور دل میں تعریف اور جھر جھریوں کے شوق کا جذبہ پیدا ہوا۔انشاء اللہ لا ہور سے امرتسر کے راستے روحانیت کے گرد آلود پاؤں کے ساتھ پہنچوں گا اور یہ خصوصی تار حضور کی خدمت میں جوسراسر نور مقدس ہیں بھیجوں گا۔فقط مہ حسین کا می سفیر سلطان المعظم ) نقل اس خط کی جو سفیر کی طرف سے ناظم الہند ۵ ارمئی ۱۸۹۷ء میں چھپا ہے۔بحضور سيّد السادات العظام و فخر النجباء الكرام مولانا سید محمد ناظر حسین صاحب ناظم ادام الله فیوضه و ظل عاطفته۔سیدی و مولائی۔آپ کی بلند ذات کی طرف سے یہ التفات نامہ عزت و گرامی ہاتھوں سے ہم تک پہنچا۔الحق اس نے غیر معمولی ممنونیت عظمی بخشی۔میں آپ پر فدا ہوں کہ آپ نے قادیان اور قادیان کے اردگرد کے حالات کا استفسار فرمایا ہے۔اب میں بڑی سنجیدگی کے ساتھ بلند ہمت عالی بیان سے افادہ کرتا ہوں کہ یہ شخص عجیب و غریب ہے اور اسلام کے صراط مستقیم سے برگشتہ قدم ہے اور علیہم والضالین کے دائرہ میں قدم رکھے ہوئے ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے جھوٹ کو سامنے رکھے ہوئے اپنے زعم باطل سے باب رسالت کو کھلا ہوا جانتا ہے یہ بات ہزارہنسی کے لائق ہے کہ وہ نبوت و رسالت کے درمیان فرق سمجھتا ہے اور معاذ اللہ یہ کہتا ہے کہ رسول کریم کو خدا نے قرآن مجید اور فرقان حمید میں