مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 275 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 275

مجموعہ اشتہارات ۲۷۵ جلد دوم اور اُس کی پاک شان میں طرح طرح کی بے باکیاں اور شوخیاں کیں۔میرا خیال اب تک نہ تھا کہ سکھ صاحبوں میں ایسے لوگ بھی ہیں۔آفتاب آپ کی نظر میں ایک ناچیز خس و خاشاک دکھائی دیا۔اے غافل ! وہی ایک نور ہے جس نے دنیا کو تاریکی میں پایا اور روشن کیا اور مردہ پایا اور جان بخشی تمام نبوتیں اس سے ثابت ہوئیں اور وہ اپنی ذات میں ثابت ہے۔بھلا بتاؤ! کہ اس کے سوا آج اس موجودہ دنیا میں کون ہے جس کا کوئی پیرو دم مارسکتا ہو کہ میں دعا اور خدا کی نصرت میں اپنے مخالف پر غالب آ سکتا ہوں؟ یوں تو کو چہ کو چہ اور گلی گلی میں مذہب پھیلے ہوئے ہیں اور ہر ایک اپنے نبی یا اوتار کے اعجوبے قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں بیان کر رہا ہے اور پتنکوں اور کتابوں کے حوالہ سے ہزاروں خوارق ان کے بیان کئے جاتے ہیں۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ ان قصوں کا ثبوت کیا ہے اور کس کو ہم جھوٹا کہیں اور کس کو ہم سچا سمجھیں ؟ اور اگر یہ قصے صحیح تھے تو اب کیوں یہ مصیبت پیش آئی کہ ان لوگوں کے ہاتھ میں صرف قصے ہی قصے رہ گئے؟ بچوں کا نور ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ذرہ خود انصاف کرو کہ کیا گذشتہ باتوں کا فیصلہ صرف باتوں سے ہوسکتا ہے؟ کوئی بُرا مانے یا بھلا مگر میں سچ سچ کہتا ہوں کہ ان تمام مذہبوں میں سے بیچ پر قائم وہی مذہب ہے جس پر خدا کا ہاتھ ہے اور وہی مقبول دین ہے جس کی قبولیت کے نور ہر ایک زمانہ میں ظاہر ہوتے ہیں۔یہ نہیں کہ پیچھے رہ گئے ہیں۔سو دیکھو! میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ روشن مذہب اسلام ہے جس کے ساتھ خدا کی تائیدیں ہر وقت شامل ہیں۔کیا ہی بزرگ قدر وہ رسول ہے جس سے ہم ہمیشہ تازہ بتازہ روشنی پاتے ہیں۔اور کیا ہی برگزیدہ وہ نبی ہے جس کی محبت سے روح القدس ہمارے اندر سکونت کرتی ہے تب ہماری دعائیں قبول ہوتی ہیں اور عجائب کام ہم سے صادر ہوتے ہیں۔زندہ خدا کا مزہ ہم اسی راہ میں دیکھتے ہیں۔باقی سب مُردہ پرستیاں ہیں۔کہاں ہیں مردہ پرست! کیا وہ بول سکتے ہیں؟ کہاں ہیں مخلوق پرست ! کیا وہ ہمارے آگے ٹھیر سکتے ہیں؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو شرارت سے کہتے تھے۔جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی پیشگوئی نہیں ہوئی اور نہ کوئی نشان ظاہر ہوا؟ دیکھو! میں کہتا ہوں کہ وہ شرمندہ ہوں گے اور عنقریب