مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 272 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 272

مجموعہ اشتہارات ۲۷۲ جلد دوم کی طرز زندگی کے اعلیٰ نمونہ ہیں لیکن لالہ گنگا بشن صاحب نے سب سے پہلے اس ارادہ کو بذریعہ چند اخبار شائع کیا ہے۔اس لئے ان کا حق سب پر مقدم ہے۔اور جب تک لالہ صاحب موصوف ان تمام شرائط سے جو اس اشتہار میں انہیں کی تحریک سے لکھی گئی ہیں گریز اختیار نہ کریں اور میدان سے بھاگ نہ جائیں تب تک ہم دوسری طرف التفات نہیں کر سکتے اور نہ یہ حق دوسرے کو دے سکتے ہیں۔ہاں اگر وہ خود ان شرائط سے پہلو تہی کریں تو پھر اس صورت میں کوئی دوسرا درخواست کر سکتا ہے۔مگر یاد رہے کہ یہ اشتہار اپنی شرائط کے ساتھ تجویز ناطق ہے اور کسی صورت میں کمی بیشی ان شرائط کی جائز نہ ہوگی۔اور یہ تمام شرائط ہر ایک کے لئے جو میدان میں آوے ایک اٹل قانون کی طرح سمجھی جائیں گی۔منہ نوٹ۔ہمدرد ہندلا ہو ر ۱۲ اپریل ۱۸۹۷ء میں گنگا بشن صاحب نے ایک اور شرط زیادہ کی ہے اور وہ یہ ہے کہ جب میں یعنی یہ راقم حسب قرار داد بصورت جھوٹا نکلنے کے پھانسی کی موت سے مارا جائے تو میری لاش ان کو یعنی گنگا بشن کومل جائے اور پھر وہ اس لاش سے جو چاہیں کریں۔جلا دیں دریا بر دکریں۔یا اور کار روٹی کریں۔سو واضح رہے کہ یہ شرط بھی مجھے منظور ہے اور میرے نزدیک بھی جھوٹے کی لاش ہر ایک ذلت کے لائق ہے۔اور یہ شرط در حقیقت نہایت ضروری تھی جو لالہ گنگا بشن صاحب کو عین موقعہ پر یاد آ گئی۔لیکن ہمارا بھی حق ہے کہ یہی شرط بالمقابل اپنے لئے بھی قائم کریں۔ہم نے مناسب نہیں دیکھا کہ ابتداء اپنی طرف سے یہ شرط لگا ہیں۔مگر اب چونکہ لالہ گنگا بشن صاحب نے بخوشی یہ شرط قائم کر دی۔اس لئے ہم بھی نہ دل سے شکر گزار ہو کر اور اس شرط کو قبول کر کے اسی قسم کی شرط اپنے لیے قائم کرتے ہیں۔اور وہ یہ ہے کہ جب گنگا بشن صاحب حسب منشاء پیشگوئی مر جائیں تو اُن کی لاش بھی ہمیں مل جائے تا بطور نشان فتح وہ لاش ہمارے قبضہ میں رہے۔اور ہم اس لاش کو ضائع نہیں کریں گے بلکہ بطور نشان فتح مناسب مصالحوں کے ساتھ محفوظ رکھ کر کسی عام منظر میں یا لا ہور کے عجائب گھر میں رکھا دیں گے۔لیکن چونکہ لاش کے وصول پانے کے لئے ابھی سے کوئی احسن انتظام چاہیے۔لہذا اس سے زیادہ کوئی انتظام احسن معلوم نہیں ہوتا کہ پنڈت لیکھرام کی یادگار کے لئے جو