مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 266
مجموعہ اشتہارات ۲۶۶ جلد دوم گی۔مگر اپنی طرف سے یہ زائد شرط لگا دی کہ میں اس صورت میں قسم کھاؤں گا کہ دس ہزار روپیہ میرے لئے جمع کر دیا جائے اس تصریح سے کہ اگر زندہ رہا تو اس روپیہ کا میں حق دار ہوں گا۔سو ہم نے اس نئی شرط کو بھی جو ہمارے اشتہار کے منشاء سے زائد تھی۔اس شرط کے ساتھ قبول کیا کہ لالہ کنگا بشن اس مفصلہ ذیل مضمون کی قسم بذریعہ کسی مشہور اخبار کے شائع کریں اور نیز قادیان میں آکر بالمواجہ بھی میرا نام لے کر یہ قسم کھاویں کہ در حقیقت لیکھرام کے قتل میں اس شخص کی شراکت ہے اور اس کی خفیہ سازش سے اس کی موت ہوئی ہے۔اور اگر یہ میچ نہیں ہے تو ایک سال تک مجھ کو وہ موت آوے جس میں انسان کے منصوبہ کا دخل نہ ہو۔اور ایسا ہی اخبار کے ذریعہ سے اور نیز بالمواجہ بھی یہ اقرار کریں کہ اگر میں ایک سال کے اندر حسب منشاء اس قسم کے مرگیا تو میرا مرنا اس بات پر گواہی ہوگا کہ در حقیقت لیکھر ام خدا کے غضب سے اور پیشگوئی کے موافق ہلاک ہوا ہے اور نیز اس بات پر گواہی ہوگی کہ درحقیقت دینِ اسلام ہی سچا دین ہے اور باقی تمام مذاہب جیسا کہ آریہ مت سناتن دھرم اور عیسائی وغیرہ سب بگڑے ہوئے عقیدے ہیں۔اس پر لالہ گنگا بشن صاحب ضمیمہ بھارت سدها را ارا پریل ۱۸۹۷ ء اور ہمدرد ہند لا ہور ۱۲ اپریل ۱۸۹۷ء میں فضول عذر شائع کرتے ہیں کہ یہ شرط اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء میں موجود نہیں تھی۔لہذا ہم ان کو اطلاع دیتے ہیں کہ اول تو خودتم نے ہمارے اشتہار ۱۵ مارچ ۱۸۹۷ء کی پابندی اختیار نہیں کی اور اپنی طرف سے دس ہزار روپیہ جمع کرانے کی شرط زیادہ کر دی۔جس پر ہمارا حق تھا کہ ہم بھی تمہاری اس قدر ترمیم پر جس قدر چاہتے پہلے اشتہار کی ترمیم کرتے۔اور یہ ایک سیدھی بات ہے کہ آپ نے ہمارے اشتہار کے منشاء سے آگے قدم رکھ کر ایک نئی شرط اپنے فائدہ کے لئے زیادہ کر دی۔اس لئے ہمارا بھی حق تھا کہ ہم بھی نئی شرط کے مقابل پر جس قدر چاہیں بڑھا دیں۔علاوہ اس کے اگر غور کرو تو تمہیں معلوم ہوگا کہ ہم نے کوئی امر تمہارے مقابل پر ۱۵ / مارچ ۱۸۹۷ء کے اشتہار کے مخالف پیش نہیں کیا۔بلکہ وہ باتیں جو مجمل طور پر اشتہار مذکور میں پائی جاتی تھیں۔ان کو کسی قدر تفصیل سے لکھ دیا ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ اقرار جو بذریعہ اشتہار اور نیز بالمواجہ ہم تم لے دیکھئے جلد ہذا کے صفحہ ۲۵۷ پر زیر اشتہار نمبر ۱۷۔(مرتب)