مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 255

مجموعہ اشتہارات جلد دوم یہ نصیحت ہے کہ اب خدا سے لڑنا مناسب نہیں۔بلکہ اپنے دلوں کی اصلاح کرنے کا وقت ہے۔آریہ صاحبان بار بار کہتے ہیں کہ کیا قانون قدرت اس بات کو مانتا ہے کہ ایسے کھلے کھلے نشانوں کے ساتھ کوئی پیشگوئی خدا کی طرف سے ہو۔میں کہتا ہوں کہ وہ اس اعتراض میں معذور ہیں کیونکہ وہ اس خدا سے بے خبر ہیں جو غیبی خبریں دینے پر قادر ہے۔ان کا عقیدہ ہے کہ وید علم غیب سے خالی ہے۔گویا ان اپر میشر ایک نہایت کمزور پر میشر ہے جو غیب کی باتیں بتلانے پر قادر نہیں اس لئے وہ ہمارے قادر خدا کو بھی ایسا ہی سمجھتے ہیں سو یہ ان کی غلطی ہے یقین یا درکھیں کہ اس دنیا کا مالک ایک قادر اور عالم الغیب خدا ہے۔اور وہ وہی ہے جس نے قرآن بھیج کر گم گشتہ توحید کو پھر دنیا میں قائم کیا۔سچا خدا وہی خدا ہے باقی سب بُت پرستیاں یا انسان پرستیاں ہیں۔اسلام کے مذہب اور ہندوؤں کے مذہب کا خدا تعالیٰ کی درگاہ میں ستر کا برس سے ایک مقدمہ دائر تھا۔سو آخر ۶ / مارچ ۱۸۹۷ء کے اجلاس میں اُس اعلیٰ عدالت نے مسلمانوں کے حق میں ایسی ڈگری دی جس کا نہ کوئی اپیل اور نہ مرافعہ۔اب یہ واقعہ دنیا کو بھی نہیں بھولے گا۔آریہ صاحبوں کو چاہیے کہ اب گورنمنٹ کو ناحق تکلیف نہ دیں مقدمہ صفائی سے فیصلہ پاچکا اور مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ ہر یک جوش سے اپنے تئیں باز رکھیں۔اور اخلاقی پیرایہ میں فتح کا شکر ظاہر کریں۔اور نیز اس وقت سچی اطاعت اور سچی بُردباری کا نمونہ گورنمنٹ کو دکھلائیں اور کوئی وحشیانہ حرکت اُن سے ظاہر نہ ہو کیونکہ آسمانی عدالت سے ان کی فتح ہو چکی ہے اور آریہ صاحبان اُن کے مدیون ٹھہر چکے ہیں۔اب اپنے مدیونوں سے نرمی کریں۔لطف اور محبت سے پیش آئیں۔سچا خلق ان کو دکھلائیں۔یقین ہے کہ آریہ صاحبان بھی پر میشر کے کئے پر راضی ہو کر اپنی آتش افشانی سے باز آجائیں گے۔ابھی کل کی بات ہے کہ ہند و صاحبان فرمایا کرتے تھے کہ ہمارا مذہب کچا تا کہ ہے۔اور حقیقت میں یہ قول نہایت سچا تھا۔کاش اس پر قائم رہتے پھر جیسے شدھ کرنے کی آرزو اُن کے دلوں میں پڑی۔تو ایسے لوگ بھی اُن میں پیدا ہو گئے جن کا نمونہ ایک لیکھرام تھا۔سو اب ایسے بیہودہ خیال جانے دیں کہ آریہ مت میں داخل ہو کر لوگ مدھ ( پوتر ) ہو جاتے ہیں۔وہ دنیا دار ہیں ان کو کیا معلوم ہے کہ انسان کیونکر اور کس مذہب