مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 247
مجموعہ اشتہارات ۲۴۷ جلد دوم کو اسلام کی سچائی کا ایک معیار ٹھیرایا تھا۔اور خدا نے لیکھرام کو مار کر مسلمانوں کی ہندوؤں پر ڈگری کر دی تو اس حالت میں نہ صرف لیکھرام بلکہ بحیثیت مذہبی اس تمام فرقہ کی عزت میں فرق آگیا۔رہی لاش کی عزت۔تو لاش کا ڈاکٹر کے ہاتھ سے چیرے جانا کیا یہ عزت کی بات ہے۔اور چال چلن کی عزت کا یہ حال ہے کہ پیسہ اخبار ۱۳ مارچ ۱۸۹۷ء میں لکھا ہے کہ ”اس شخص کے مارے جانے کی مشہور روایت یہ ہے کہ یہ شخص کسی عورت سے ناجائز تعلق رکھتا تھا اور یہی عام طور پر کہا جاتا اور یقین کیا جاتا ہے۔فقط پس اس سے زیادہ ذلت کا اور کیا نمونہ ہو گا کہ جان بھی گئی۔اور اکثر شہر کے لوگ اس کی وجہ بدکاری ٹھیراتے ہیں۔منہ نوٹ نمبر ۳۔ایک نشان عقل مندوں کے لئے یہ ہے کہ شیخ نجفی نے چالیس دقیقہ میں نشان دکھلانے کا وعدہ کیا تھا۔اور ہم نے یکم فروری ۱۸۹۷ء سے چالیس روز میں۔دیکھو حاشیہ اشتہار یکم فروری ۱۸۷۹ء صفحہ ۳ جس کی عبارت یہ ہے۔اگر نشا نے از مادر میں مدت یعنی چهل روز بظهور آمد و از بیشان یعنی از شیخ نجفی چیزے بظهور نیامد ہمیں دلیل بر صدق ما و کذب شان خواهد بود۔سو یکم فروری ۱۸۹۷ء سے ۳۵ دن تک یعنی چالیس روز کے اندر نشان موت پنڈت لیکھرام وقوع میں آ گیا۔نجفی صاحب یہ تو بتلا ہیں کہ یکم فروری ۱۸۹۷ء سے آج تک کتنے دقیقے گزر گئے ہیں افسوس کہ نجفی نے کسی منارہ سے گر کے بھی نہ دکھلایا۔گر ہمیں لاف و گزاف و شیخی است شیخ نجد بهتر از صد نجفی است که منه ے ترجمہ۔اگر یہ لاف و گزاف اور یہی شیخی ہے تو ایسے سونجفی شیخوں سے شیخ نجدی (شیطان ) بہتر ہے۔