مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 215
مجموعہ اشتہارات ۲۱۵ جلد دوم کہتے ہیں تو پھر دوسری قوموں کا کیا قصور ہے کہ اُن کے خداؤں کو قبول نہیں کیا جاتا۔کیا اُن کے دفتروں اور کتابوں میں اس قسم کے قصے بکثرت بھرے ہوئے نہیں ہیں؟ دنیا میں اکثر یہی فساد بہت پھیل رہا ہے کہ لوگ دعوئی اور دلیل میں فرق نہیں کرتے۔کون اس بات کو نہیں جانتا کہ یہود جن کے لئے یسوع بھیجا گیا تھا وہ سب اس کے معجزات سے صاف منکر ہیں۔اب تک اُن کی پرانی کتابوں سے لے کر آخری تالیفات تک میں یہی واویلا ہے کہ اس سے کوئی بھی معجزہ نہیں ہوا۔چنانچہ بعض تاریخی کتابیں ان کی میرے پاس بھی موجود ہیں۔پس کیا یہ تعجب کی بات نہیں کہ جس قوم کو مردے زندہ کر کے دکھلائے گئے اور اُن کے جذامی اچھے کئے گئے اور اُن کے مادر زاد اندھوں کی آنکھیں کھولی گئیں۔وہ قدیم سے قطعاً ان باتوں سے منکر چلے آویں اور کوئی فرقہ اُن میں سے قائل نہ ہو۔بھلا اگر اور نہیں تو اتنا تو چاہیے تھا کہ جن کے باپ دادوں پر یہ احسان ہوا وہی شکر کے طور پر مانتے چلے آتے۔سواب اگر عیسائیوں کی انجیل یہ بیان کرتی ہے کہ مُردے زندہ ہوئے تو اس کے برخلاف یہودیوں کی بہت سی کتابیں بیان کرتی ہیں کہ ایک ٹڈی بھی زندہ نہیں ہوئی اور نہ اور کوئی نشان ظاہر ہوا تو اب کون فیصلہ کرے کہ ان دونوں میں سے حق پر کون ہے بلکہ تین دلیل سے یہود حق پر معلوم ہوتے ہیں۔(۱) اول یہ کہ عادت اللہ نہیں ہے کہ بار بار قبرین بھٹیں اور مردے دنیا میں آویں۔(۲) دوم یہ کہ یسوع نے انجیل میں آپ بھی معجزات دکھلانے سے انکار کیا ہے بلکہ غصہ میں آکر معجزات مانگنے والوں کو حرام کا رکہہ دیا ہے۔(۳) تیسرے یہود کی طرف سے یہ حجت ہے کہ اگر یسوع میں مردہ زندہ کرنے کی طاقت ہوتی تو وہ اپنی نبوت کے ثابت کرنے کے لئے ضرور اس طاقت کو استعمال کرتا۔لیکن جب اس سے پوچھا گیا تھا کہ مسیح سے پہلے ایلیا کا دوبارہ دنیا میں آنا ضروری ہے۔اگر تو مسیح موعود ہے تو دکھلا کہ ایلیا کہاں ہے، تو اس نے اس وقت تاویل سے کام لیا اور کہا کہ یوحنا بن زکریا کو ایلیا سمجھ لو اور اسی وجہ سے یہود کے علماء اس کو قبول نہ کر سکے۔پس اگر اس کو زندہ کرنے کی قدرت تھی تو اس پر فرض تھا کہ وہ فی الفور ایلیا کو دکھلا دیتا اور تاویلوں میں نہ پڑتا۔غرض ایسے بیہودہ قصے ثبوت میں داخل نہیں ہیں بلکہ خود