مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 214
مجموعہ اشتہارات ۲۱۴ جلد دوم کہ یسوع کی ذات کے لیے وہ نشان ایسے سمجھے جائیں جس سے اس کی الوہیت بپایہ ثبوت پہنچ جائے اور اس کے خدا ہونے میں کچھ بھی کسر نہ رہے۔پھر جب وہی نشان بلکہ بقول یسوع اُن سے بھی کچھ بڑھ چڑھ کوکسی دوسرے مدعی الہام سے صادر ہوں تو اُس بے چارے کا ملہم ہونا بھی اُن سے ثابت نہ ہو سکے۔یہ کس قسم کا اصول اور قاعدہ ہے؟ کیا کوئی سمجھ سکتا ہے؟ پھر مسیحیوں کو اس پر بھی اصرار ہے کہ یسوع کے نشان اقتداری نشان ہیں۔تبھی تو وہ خدا ہے! بہت خوب! لیکن ذرا ٹھہر کر سوچو کہ اگر جھوٹے نبی سے نشان ظاہر ہوں تو وہ اقتداری ہی کہلائیں گے نہ اور کچھ۔کیونکہ جھوٹا خدا سے دعا نہیں کرتا اور نہ خدا سے کچھ میں رکھتا ہے۔سوا گر وہ کوئی نشان دکھلاوے تو اس میں کیا شک ہے کہ اپنے اقتدار سے ہی دکھلائے گا نہ خدا سے۔پس ایسے اقتداری نشانوں سے اگر خدائی ثابت ہوسکتی ہے تو ایک کاذب کی خدائی یسوع کی خدائی سے باعتبار ثبوت کے اول درجہ پر ہے۔یسوع کے اقتداری نشانوں میں طبہ بھی ہو سکتا ہے۔کیونکہ وہ راستباز تھا۔ممکن ہے کہ اس نے نشانوں کے دکھلانے میں خدا سے مدد پائی ہو لیکن کاذب کے اقتداری نشانوں میں اس محجبہ کا ذرہ دخل نہیں کیونکہ وہ راستباز نہیں اور نہ خدا سے کچھ مدد پاسکتا ہے۔اور نہ خدا اُس سے کچھ جوڑ اور تعلق رکھتا ہے پس اس مسیحی اصول کے موافق اگر کاذب بڑے بڑے نشان دکھلاوے تو نبوت کیا اُس کی تو خدائی بھی نہایت صفائی سے ثابت ہو سکتی ہے۔بچے نشانوں کے امکان صدور کے لئے مسیح کا سرٹیفکیٹ کافی ہے۔پھر ایک کذاب کے خدا بن جانے میں کیا مشکلات ہیں۔میں حیران ہوں کہ عیسائی صاحبوں نے ان عبارتوں کو کیوں پیش کر دیا۔ان کو تو مخفی رکھنا چاہیے تھا۔اب تو وہی بات ہوئی کہ تبر خویش بر پائے خویش۔دوسرا جواب مجیب صاحب نے یہ دیا ہے کہ یسوع مسیح مر دوں کو زندہ کرتا اور جذامیوں وغیرہ کو صاف کرتا تھا۔لیکن افسوس کہ صاحب راقم نے اس جواب کے وقت میرے اشتہار کے اس فقرہ کو نہیں پڑھا کہ قوت ثبوت میں موازنہ کیا جائے گا۔افسوس انہوں نے یہ کیسی جلدی کی کہ قصوں اور کہانیوں کو پیش کر دیا۔صاحبو! مسیح کا مر دوں کو زندہ کرنا وغیرہ امور یہ سب ایسے قصے ہیں کہ جن کو خود یورپ کے محقق بنظر استہزاء دیکھتے ہیں۔ان کا نام ثبوت رکھنا اگر سادہ لوحی نہ ہو تو اور کیا ہے۔اور اگر ثبوت اسی کو