مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 183
مجموعہ اشتہارات ۱۸۳ جلد دوم خراب استعدادیں بھی مریں گی جو جھوٹے خداؤں کو قبول کر لیتی تھیں۔نئی زمین ہوگی اور نیا آسمان ہو گا۔اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو بچے خدا کا پتہ لگے گا اور بعد اس کے توبہ کا دروازہ بند ہوگا۔کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جائیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں۔قریب ہے کہ سب ملتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام۔اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا نہ کند ہوگا جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کر دے۔وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی تو حید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ہلکوں میں پھیلے گی۔اس دن نہ کوئی مصنوعی کفارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا۔اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا لیکن نہ کسی تلوار سے اور نہ کسی بندوق سے بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نور اتارنے سے تب یہ باتیں جو میں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی۔خدا کے سوا کوئی دوسرا خدا نہیں مگر مسیح ایک اور بھی ہے جو اس وقت بول رہا ہے۔خدا کی غیرت دکھلا رہی ہے کہ اس کا کوئی ثانی نہیں مگر انسان کا ثانی موجود ہے۔اس نے مجھے بھیجا تا میں اندھوں کو آنکھیں دوں جو نہ چند سال سے بلکہ انیس سو برس سے برابر اندھے چلے آتے ہیں۔دنیا میں ایک رسول آیا تا کہ ان بہروں کو کان بخشے کہ جو نہ صرف آج سے بلکہ صد ہا سال سے بہرے ہیں۔کون اندھا ہے اور کون بہرا۔وہی جس نے تو حید کو قبول نہیں کیا اور نہ اس رسول کو جس نے نئے سرے سے زمین پر تو حید کو قائم کیا۔وہی رسول جس نے وحشیوں کو انسان بنایا اور انسان سے با اخلاق انسان یعنی بچے اور واقعی اخلاق کے مرکز اعتدال پر قائم کیا اور پھر با اخلاق انسان سے باخدا ہونے کے الہی رنگ سے رنگین کیا۔وہی رسول کہاں وہی آفتاب صداقت جس کے قدموں پر ہزاروں مردے شرک اور دہریت اور فسق اور فجور کے جی اٹھے اور عملی طور پر قیامت کا نمونہ دکھلایا۔نہ یسوع کی طرح صرف لاف و گزاف۔جس نے مکہ میں ظہور فرما کر شرک اور انسان پرستی کی بہت سی تاریکی کو مٹایا۔ہاں دنیا کا حقیقی نور وہی تھا جس نے دنیا کو تاریکی میں پا کر