مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 180
مجموعه اشتہارات ۱۸۰ جلد دوم انسان کے اختیار میں ہر گز نہیں۔ پس جبکہ میں سچے دل سے اور خدا تعالیٰ کی قسم کے ساتھ یہ اقرار کرتا ہوں اور تم سب کو اللہ کے نام پر صلح کی طرف بلاتا ہوں تو اب تم خدا سے ڈرو۔ اگر میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہوں تو میں تباہ ہو جاؤں گا۔ ورنہ خدا کے مامور کو کوئی تباہ نہیں کر سکتا۔ یہ یادر ہے کہ معمولی بحثیں آپ لوگوں سے بہت ہو چکی ہیں ۔ اور عیسیٰ علیہ السلام کی وفات قرآن اور حدیث سے بپایہ ثبوت پہنچ گئی ۔ اس طرف سے کتابیں تالیف ہو کر لاکھوں انسانوں میں پھیل گئیں ۔ طرف ثانی نے بھی ہر یک تلبیس اور تزویر سے کام لیا۔ پاک کتابوں کے نیک روحوں پر بڑے بڑے اثر پڑے اور ہزار ہا سعید لوگ اس جماعت میں داخل ہو گئے اور تقریری اور تحریری بحثوں کے نتیجے اچھی طرح کھل گئے ۔ اب پھر اسی بحث کو چھیڑنا، یا فیصلہ شدہ باتوں سے انکار کرنا محض شرارت اور بے ایمانی ہے کتا بیں موجود ہیں ۔ ہاں عین مباہلہ کے وقت پھر ایک گھنٹہ تک تبلیغ کر سکتا ہوں ۔ پس فیصلہ کی یہی راہیں ہیں جو میں نے پیش کی ہیں ۔ اب اس کے بعد جو شخص طے شدہ بحثوں کی ناحق درخواست کرے گا میں سمجھوں گا کہ اس کو حق کی طلب نہیں بلکہ سچائی کو ٹالنا چاہتا ہے۔ : یہ بھی یادر ہے کہ اصل مسنون طریق مباہلہ میں یہی ہے کہ جو لوگ ایسے مدعی کے ساتھ مباہلہ کریں جو مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ رکھتا ہو اور اس کو کا ذب یا کا فرٹھیر اویں وہ ایک جماعت مباہلین کی ا ہو۔ صرف ایک یا دو آدمی نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ فَقُلْ تَعَالَوْا میں تَعَالَوْا کے لفظ کو بصیغہ جمع بیان فرمایا ہے۔ سواس نے اس جمع کے صیغہ سے اپنے نبی کے مقابل پر ایک جماعت مکذبین کو مباہلہ کے لئے بلایا ہے ۔ شخص واحد کو۔ بلکہ مَنْ حَاجگ کے کے لفظ سے جھگڑنے والے کو ایک شخص واحد قرار دے کر پھر مطالبہ جماعت کا کیا ہے اور یہ فرمایا ہے کہ اگر کوئی جھگڑنے سے باز نہ آوے اور دلائل پیش کردہ سے تسلی نہ پکڑے تو اس کو کہہ دو کہ ایک جماعت بن کر مباہلہ کے لئے آویں۔ سواسی بنا پر ہم نے جماعت کی قید لگا دی ہے جس میں یہ صریح فائدہ ہے کہ جو امر خارق عادت بطور عذاب مکذبین پر نازل ہو وہ مشتبہ نہیں رہے گا مگر صرف ایک شخص میں مشتبہ رہنے کا احتمال ہے۔ ، ۲ آل عمران : ۶۲