مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 174
مجموعه اشتہارات ۱۷۴ جلد دوم یا فالج یا مرگی یا کوئی اسی قسم کی اور بھاری بیماری یا مصیبت میں مبتلا ہو گیا اور یا یہ کہ اس میعاد میں مولوی غلام دستگیر صاحب نہ فوت ہوئے نہ مجذوم ہوئے اور نہ نابینا اور نہ ور کا ہوئے اور نہ نابینا اور نہ اور کوئی سخت مصیبت انتہ انہیں آئی تو میں تمام لوگوں کو گواہ کرتا ہوں کہ بغیر عذ روحیلہ ان کے ہاتھ پر تو بہ کروں گا اور سمجھوں گا کہ میں جھوٹا تھا۔ تبھی خدا نے مجھے ذلیل کیا اور اگر میں مباہلہ کے اثر سے ایک برس کے اندر مر گیا تو میں اپنی تمام جماعت کو وصیت کرتا ہوں کہ اس صورت میں نہ صرف مجھے جھوٹا سمجھیں بلکہ اگر میں مروں یا ان عذابوں میں سے کسی عذاب میں مبتلا ہو جاؤں تو وہ دنیا کے سب جھوٹوں اور کذابوں میں سے زیادہ کذاب مجھے یقین کریں اور ان ناپاک اور گندے مفتریوں میں سے مجھے شمار کریں جنہوں نے جھوٹ بول کر اپنی عاقبت کو خراب کیا اور اگر میں دس تاریخ شعبان تک بمقام لاہور مباہلہ کے لئے حاضر نہ ہوا تب بھی مجھے کاذب قرار دیں لیکن ضرور ہے کہ اول مولوی غلام دستگیر صاحب عزم بالجزم کر کے اس نمونہ کا اپنی طرف سے بقید تاریخ اشتہار دے دیں اور اگر وہ اشتہار نہ دیں تو پھر میں لاہور نہیں جاسکتا۔ وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى المشتهر :۔ خاکسار مرزاغلام احمد کر رائے یہ بھی اطلاع دی جاتی ہے کہ اگر اور صاحب بھی علمائے پنجاب یا ہندوستان سے مباہلہ کا ارادہ رکھتے ہوں تو وہ بھی اسی تاریخ پر بمقام لاہور مباہلہ کے لئے حاضر ہو کر مولوی غلام دستگیر کے ساتھ شریک ہو جائیں اور اگر اب حاضر نہیں ہوں گے تو پھر آئندہ ان کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا۔ ( روزنامه الفضل قادیان دارالامان مورخه ۲۶ ستمبر ۱۹۴۳ ء صفحه ۲) لے حضور علیہ السلام کے اسم مبارک کے بعد کی سطور اصل مسودہ میں حضور علیہ السلام نے پنسل سے لکھی ہوئی ہیں۔ (ایڈیٹر )