مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 142
مجموعہ اشتہارات ۱۴۲ جلد دوم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے خبر دی تھی کہ جس شخص کی ہمت اور دعا اور قوت بیان اور تاثیر کلام اور انفاس کافرکش سے یہ فتنہ فرو ہوگا اسی کا نام اس وقت عیسیٰ اور مسیح موعود ہوگا۔اگر چہ وہ پیشگوئیاں بہت سے نازک اور لطیف استعارات سے بھری پڑی ہیں مگر ان میں جو نہایت واضح اور کھلا کھلا اور موٹا نشان مسیح موعود کے بارے میں لکھا گیا ہے وہ کسر صلیب ہے یعنی صلیب کو توڑنا۔یہ لفظ ہر یک عقلمند کے لئے بڑی غور کے لائق ہے اور یہ صاف بتلا رہا ہے کہ وہ مسیح موعود عیسائیت کے موجزن فتنہ کے زمانہ میں ظاہر ہوگا نہ کسی اور زمانہ میں۔کیونکہ صلیب پر سارا مدار نجات کا رکھنا کسی اور دجال کا کام نہیں ہے۔یہی گروہ ہے جو صلیبی کفارہ پر زور دے رہا ہے اور اس کو فروغ دینے کے لئے ہر ایک دجل کو کام میں لا رہا ہے۔دقبال بہت گزرے ہیں اور شاید آگے بھی ہوں۔مگر وہ دقبال اکبر جن کا دجل خدا کے نزدیک ایسا مکروہ ہے کہ قریب ہے جو اس سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔یہی گروہ مشت خاک کو خدا بنانے والا ہے۔خدا نے یہودیوں اور مشرکوں اور دوسری قوموں کے طرح طرح کے دجل قرآن شریف میں بیان فرمائے مگر یہ عظمت کسی کے دجل کو نہیں دی کہ اس دجل سے آسمان ٹکڑے ٹکڑے ہو سکتے ہیں۔پس جس گروہ کو خدا نے اپنے پاک کلام میں دجال اکبر ٹھہرایا ہے ہمیں نہیں چاہیے کہ اس کے سوا کسی اور کا نام دجال اکبر رکھیں۔نہایت ظلم ہو گا کہ اس کو چھوڑ کر کوئی اور دقبال اکبر تلاش کیا جائے۔یہ بات کسی پہلو سے درست نہیں ٹھہر سکتی کہ حال کے پادریوں کے سوا کوئی اور بھی دقبال ہے جو ان سے بڑا ہے کیونکہ جبکہ خدا نے اپنی پاک کلام میں سب سے بڑا یہی دجال بیان فرمایا ہے تو نہایت بے ایمانی ہوگی کہ خدا کے کلام کی مخالفت کر کے کسی اور کو بڑا دقبال ٹھہرایا جائے۔اگر کسی ایسے دجال کا کسی وقت وجود ہو سکتا تو خدا تعالیٰ جس کا علم ماضی اور حال اور مستقبل پر محیط ہے اسی کا نام دقبال اکبر رکھتا نہ ان کا نام۔پھر یہ نشان دجال اکبر کا جو حدیث بخاری کے صریح اس اشارہ سے نکلتا ہے کہ يَكْسِرُ الصَّلِيْبَ صاف بتلا رہا ہے کہ اس دجال اکبر کی شان میں سے یہ ہوگا کہ وہ مسیح کو خدا اٹھہرائے