مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 129
مجموعه اشتہارات ۱۲۹ جلد دوم یہ وہ رسالہ ہے جس کا نام ۱۵۳ خدا کا فیصلہ ہے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ پنجاب اور ہندوستان کے تمام پادری صاحبوں کے لئے ایک احسن طریق فیصلہ عیسائی صاحبوں کا یہ اعتقاد ہے کہ جو لوگ تثلیث کا عقیدہ اور یسوع کا کفارہ نہیں مانتے وہ ہمیشہ کے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اور وہ اعتقاد جو خدا تعالیٰ نے اپنی پاک کلام قرآن شریف کے ذریعہ سے مسلمانوں کو سکھایا ہے وہ یہ ہے کہ بحجر توحید کے نجات نہیں۔ یہی توحید ہے جس کی رو سے تمام دنیا سے مواخذہ ہو گا خواہ قرآن ان کو نہ پہنچا ہو کیونکہ یہ انسان کے دل میں فطرتی نقش ہے کہ اس کا خالق اور مالک اکیلا خدا ہے جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں۔ اس توحید میں کوئی بھی ایسی بات نہیں جو زبردستی منوانی پڑے کیونکہ انسانی دل کی بناوٹ کے ساتھ ہی اس کے نقوش انسان کے دل میں منقش کئے جاتے ہیں۔ مگر جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے غیر محدود خدا کو تین اقنوم میں یا چاراقنوم میں محدود کرنا اور پھر ہر ایک اقنوم کو کامل بھی سمجھنا اور ترکیب کا محتاج بھی اور پھر خدا پر یہ روا رکھنا کہ وہ ابتدا میں کلمہ تھا پھر وہی کلمہ جو خدا تھا مریم کے پیٹ میں پڑا اور اس کے خون سے مجسم ہوا اور معمولی راہ سے پیدا ہوا اور سارے دکھ خسرہ، چیچک ، دانتوں کی تکلیف جو انسان کو ہوتی ہیں سب اٹھائے آخر کو جوان ہو کر پکڑا گیا اور صلیب پر چڑھایا گیا۔ یہ نہایت گندہ شرک ہے جس میں انسان کو خدا ٹھہرایا گیا ہے خدا اس سے پاک ہے کہ وہ کسی کے پیٹ میں پڑے اور مجسم ہو اور دشمنوں کے ہاتھ میں گرفتار ہو۔ انسانی فطرت اس کو قبول نہیں کر سکتی کہ خدا پر ایسے دکھ کی مار اور یہ مصیبتیں پڑیں اور وہ جو تمام عظمتوں کا مالک اور تمام عزتوں کا سرچشمہ ہے اپنے لئے یہ تمام ذلتیں روا رکھے عیسائی اس بات کو مانتے ہیں کہ خدا کی اس رسوائی کا یہ پہلا ہی موق یہ پہلا ہی موقعہ ہے اور اس سے پہلے اس قسم کی ذلتیں خدا نے کبھی نہیں اٹھائیں۔ کبھی یہ امر