مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 128
مجموعہ اشتہارات ۱۲۸ جلد دوم حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ تم میں ان باتوں کی برداشت نہیں۔اس میں صریح اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ تمہاری استعدادیں اور تمہاری فطرتیں اس تعلیم کے مخالف پڑی ہیں۔پھر جبکہ فطرت میں تبدیلی ممکن نہیں اور نہ حضرت مسیح کے وقت میں وہ فطرتیں مبدل ہوسکیں تو پھر کسی دوسرے وقت میں ان کی تبدیلی کیونکر ممکن ہے۔پس یہ صاف اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ وہ تعلیم تمہیں نہیں دی جائے گی بلکہ تمہاری ذریت اس تعلیم کا زمانہ پائے گی اور ان کو وہ استعداد میں دی جائیں گی جو تمہیں نہیں دی گئیں۔یہ تو ہم نے پادری ٹھا کر داس صاحب کی نسبت وہ باتیں لکھی ہیں جن کا انصاف کی رُو سے لکھنا مناسب تھا لیکن خیر الدین صاحب کی یہ غلطی ہے کہ وہ گمان کرتے ہیں کہ یسوع انجیلی تعلیم کا پابند تھا۔انہیں سمجھنا چاہیے کہ اگر یسوع اس کی تعلیم کا پابند ہوتا تو فقیہوں فریسیوں کو بد زبانی سے پیش نہ آتا۔یسوع کے ہاتھ میں صرف زبان تھی سو خوب چلائی۔کسی کو حرامکار کسی کو سانپ کا بچہ کسی کوست اعتقاد قرار دیا۔اگر کچھ اختیار ہوتا تو خدا جانے کیا کرتا۔ہم اُس کے حلم اور عفو کے بغیر امتحان کے کیونکر قائل ہو جائیں اور کیوں یہ بات سچ نہیں کہ ستر بی بی از بیچادری“ کہاں یسوع کو یہ موقعہ ملا کہ وہ یہود کے سزا دینے پر قادر ہوتا اور پھر در گذر کرتا۔ہاں یہ اخلاق فاضلہ ہمارے سید ومولی افضل الانبیاء و خیر الاصفیاء محمد مصطفیٰ خاتم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم میں ثابت ہیں کہ آپ نے جب مکہ والوں پر فتح پائی جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت ستایا تھا اور صد ہا ناحق کے خون کئے تھے، اور یقین رکھتے تھے کہ ہم اپنی خونریزیوں کے عوض ٹکڑے ٹکڑے کئے جاویں گے اُن سب کو بخش دیا اور کہا کہ جاؤ میں نے سب کو آزاد کر دیا۔عیسائیوں کی اگر نیک قسمت ہے تو اب بھی اس آفتاب صداقت کو شناخت کریں اور مُردہ پرستی سے باز آئیں۔وَالسَّلَامُ عَلَى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدَى یہ اشتہار ۲۳ کے ۸ صفحوں پر درج ہے ) غلام احمد قادیانی تبلیغ رسالت جلد ۵ صفحه ۶۶ تا ۷۷) مطبوعہ ضیاء الاسلام قادیان