مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 127

مجموعہ اشتہارات ۱۲۷ جلد دوم قوت کی بد استعمالی ہے۔ورنہ مجرد سبقت کا جوش اپنے اندر بُرا نہیں ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ لا یعنی خیر اور بھلائی کی ہر ایک قسم میں سبقت کرو اور زور مار کر سب سے آگے چلو۔سو جو شخص نیک وسائل سے خیر میں سبقت کرنا چاہتا ہے وہ درحقیقت حسد کے مفہوم کو پاک صورت میں اپنے اندر رکھتا ہے۔اسی طرح تمام اخلاق رذیلہ اخلاق فاضلہ کی مسخ شدہ صورتیں ہیں۔خدا تعالیٰ نے انسان میں تمام نیک قوتیں پیدا کیں۔پھر بد استعمالی سے وہ بدنما ہو گئیں۔اسی طرح انتقام کی قوت بھی درحقیقت بُری نہیں ہے فقط اس کی بداستعمالی بُری ہے۔اور انجیل نے جو انتظامی قوت کو بُرا اقرار دیا اگر وہ عذر ہمیں یاد نہ ہوتا جو ابھی ہم بھی لکھ چکے ہیں تو ہم ایسی تعلیم کو شیطانی تعلیم قرار دیتے۔مگر اب کیونکر قرار دیں کیونکہ خود حضرت مسیح اپنی تعلیم کے علمی اور ناقص ہونے کا اقرار کر کے اپنے حواریوں کو کہتے ہیں کہ بہت سی باتیں ہیں کہ ابھی تم اُن کی برداشت نہیں کر سکتے لیکن جب فارقلیط آئے گا تو وہ تمام باتیں تمہیں سمجھا دے گا۔“ یه اشارہ اسی بات کی طرف تھا کہ میری تعلیم لکھی اور ناقص ہے اور آنے والا نبی کامل تعلیم لائے گا۔عیسائیوں کا یہ عذر بالکل جاہلانہ عذر ہے کہ یہ پیشگوئی اُس روز پوری ہوئی جب حواریوں نے طرح طرح کی زبانیں بولی تھیں۔کیونکہ طرح طرح کی زبانیں بولنا کوئی نئی تعلیم نہیں ہوسکتی۔وہ زبانیں تو عیسائیوں نے محفوظ بھی نہیں رکھیں بولنے کے ساتھ ہی معدوم ہوگئیں۔ہاں اگر عیسائیوں کے ہاتھ میں کوئی ایسی نئی تعلیم ہے جو حضرت مسیح کے اقوال میں نہیں پائی جاتی تو اسے پیش کرنا چاہیے تادیکھا جائے کہ وہ اس عفو اور درگزر کی تعلیم کو کیونکر بدلاتی ہے۔اگر عیسائیوں میں انصاف ہوتا تو حضرت مسیح کا اپنی تعلیم کو ناقص قرار دینا اور ایک آنے والے نبی کی اُمید دلانا ہمارے مولیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی شناخت کے لیے بڑا قرینہ تھا خصوصاً اس حالت میں کہ خود انجیل کی ناقص تعلیم ایک کامل کتاب کو چاہتی تھی۔پھر ایک یہ بھی بڑا قرینہ تھا کہ البقرة : ١٤٩