مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 126
مجموعه اشتہارات ۱۲۶ جلد دوم پاتے تو یقین تھا کہ وہ اپنی تحریروں میں کچھ نرمی کرتے لیکن مخلوق پرست لوگوں نے اور بھی اہلِ تحقیق کو بیزار کیا۔ عزیز و یہ زمانہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ اس زمانہ کے محقق اور آزاد طبیعت ایک مردہ خوار کو ایسا برا اور قابل لعن و طعن اور حقیر نہیں سمجھتے جیسا کہ ایک مردہ پرست مشرک کو ۔ غرض انجیل کی ناقص اور کمی اور بیہودہ تعلیم اگر چہ اہلِ تحقیق کے نزدیک نہایت ہی بدبو دار اور قابل نفرت ہے، لیکن چونکہ اُس وقت کے یہود بھی ایک گری ہوئی حالت میں تھے اور خدائے تعالیٰ جانتا تھا کہ اس تعلیم کو جلد تر نیست و نابود کیا جائے گا ۔ لہذا ایک مختصر زمانہ کے لیے جو چھ سو برس سے ا۔ زیادہ نہ تھا یہ تعلیم یہودیوں کو دی گئی ۔ مگر چونکہ فی الواقع حق اور حکمت پر مبنی نہیں تھی اس لیے خدائے تعالیٰ کی کامل کتاب نے جلد نزول فرما کر دنیا کو اس بیہودہ تعلیم سے نجات بخشی ۔ یہ بات نہایت بدیہی اور صاف ہے کہ انسان اس دنیا میں بہت سے قومی لے کر آیا ہے اور تمام حیوانات کے متفرق قوی کا مجموعہ انسان میں پایا جاتا ہے اس لیے وہ دوسروں کا سردار بنایا گیا۔ پس انسان کی تکمیل کے لیے وہی تعلیم حقیقی تعلیم ہے جو اس کی تمام قوتوں کی تربیت کرے نہ کہ اور تمام شاخوں کو کاٹ کر صاف ایک ہی شاخ پر زور ڈال دے۔ تعلیم سے مطلب تو یہ ہے کہ انسان اپنی تمام قوتوں کو حد اعتدال پر چلا کر حقیقی طور پر انسان بن جائے اور اس کی تمام قوتیں خدا تعالیٰ کے آستانہ پر کامل عبودیت کے ساتھ سر رکھ دیں اور اپنے اپنے محل اور موقعہ پر چلیں ۔ اور ہم کئی مرتبہ لکھ چکے ہیں کہ انسان میں کوئی قوت بُری نہیں ۔ صرف اُن کی بد استعمالی بُری ہے۔ مثلاً حسد کی قوت کو بہت ہی بُراسمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ ایک حاسد دوسرے کی نعمت کا زوال چاہتا ہے اور وہ نعمت اپنے لیے پسند کرتا ہے، لیکن در حقیقت غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ حسد کا اصل مفہوم بُرا نہیں ۔ کیونکہ ۔ کیونکہ اصل مفہوم اس قوت کا جو بد استعمالی سے بڑی شکل پیدا کر لیتا ہے صرف اس قدر ہے کہ سب سے بڑھ کر آگے قدم رکھے اور اچھی باتوں میں سب سے سبقت ۔ لے جائے اور پیش قدمی کا ایسا جوش ہو جو کسی کو اپنے برابر دیکھ نہ سکے۔ پس چونکہ حاسد میں سبقت کرنے کا مادہ جوش مارتا ہے لہذا ایک شخص کو ایک نعمت میں دیکھ کر یہ چاہتا ہے کہ یہ نعمت میرے لیے ہو اور اس سے دور ہو جائے تا اس طرح پر اس کو سبقت حاصل ہو۔ سو یہ اس پاک