مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 120
مجموعہ اشتہارات ۱۲۰ جلد دوم اچھا رہا جس نے خود حفاظتی کو کام میں لا کر اپنی آنکھ کو بچالیا۔شاید پادری ٹھا کر داس صاحب یہ کہیں کہ ترک مقابلہ اس حالت میں ہے جبکہ کوئی شخص تھوڑی تکلیف پہنچانا چاہے لیکن اگر سچ مچ آنکھ پھوڑ نے یا دانت نکالنے کا ارادہ کرے تو پھر خود حفاظتی کے لیے مقابلہ کرنا چاہیے۔تو یہ خیال پادری صاحب کا انجیل کی تعلیم کے مخالف ہوگا۔متی باب ۵ آیت ۳۸ میں صریح یہ عبارت ہے کہ تم سُن چکے ہو کہ کہا گیا آنکھ کے بدلے آنکھ اور دانت کے بدلے دانت۔۳۹۔پر میں تمہیں کہتا ہوں کہ ظالم کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ جو تیری دا ہنی گال پر طمانچہ مارے دوسری بھی اس کی طرف پھیر دے۔اور ظاہر ہے کہ اگر کسی کے منہ پر ایک زور آور کے ہاتھ سے ظالمانہ ارادہ سے ایک زور کا طمانچہ لگے تو اس ایک ہی طمانچہ سے دانت بھی نکل سکتے ہیں۔اور آنکھ بھی پھوٹ سکتی ہے اور یسوع صاحب فرماتے ہیں کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری بھی پھیر دے تو اس سے ان کا بھی یہی مطلب معلوم ہوتا ہے کہ تا دوسری طرف کے بھی دانت نکلیں اور آنکھ بھی پھوٹے اور اندھا ہو جائے نہ صرف کا نار ہے۔یہ تو ظاہر ہے کہ دشمن ظالم کا پُرزور طمانچہ مادر مہربان کے طمانچہ کی طرح نہیں ہوگا بلکہ وہ تو ایک ہی طمانچہ سے ایک ہی ضرب سے دانت بھی نکال ڈالے گا اور آنکھ بھی۔پس اس تعلیم سے تو یہی ثابت ہوا کہ اگر بچے عیسائی ہو تو دانت اور آنکھ نکالنے دواور مقابلہ نہ کرو۔اور اپنی آنکھ اور دانت کومت بچاؤ۔سو اس وقت وہی اعتراض انجیل پر ہوگا جو خیرالدین صاحب نے پیش کیا ہے۔اور اس آیت کا یہ بھی مطلب ہے کہ اگر کوئی ظالم تمہاری آنکھ نکال دے یا دانت توڑ دے تو یہ کوشش بھی مت کرو کہ اس کی آنکھ بھی پھوڑی جائے یا اس کا دانت بھی نکال دیا جائے۔یعنی نہ آپ انتقام لو اور نہ حکام کے ذریعہ سے انتقام کی خواہش کرو۔کیونکہ اگر انتقام ہی لینا ہے تو پھر ایسی تعلیم کو توریت پر کیا فوقیت ہے۔آپ سزا دینا یا حکام سے سزا دلوانا ایک ہی بات ہے۔اور اگر کوئی عیسائی کسی ظالم کو حکام کے ذریعہ سے سزا دلائے تو اسے یاد رکھنا چاہیے کہ توریت بھی تو ایسے موقعہ پر یہ اجازت نہیں دیتی کہ ایسے مجرم کی شخص مظلوم آپ ہی آنکھ پھوڑ دے یا دانت نکال دے بلکہ ہدایت کرتی ہے کہ ایسا شخص حکام کے ذریعہ سے چارہ جوئی کرے۔پس اس صورت میں مسیح کی تعلیم میں کون سی زیادتی ہوئی۔یہ تعلیم تو پہلے ہی سے توریت میں موجود تھی۔اس جگہ ہم صفائی بیان کے لیے پادری صاحب سے دریافت کرتے ہیں کہ اگر مثلاً کسی موقعہ پر