مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 99
مجموعہ اشتہارات ۹۹ جلد دوم کے شائع ہونے پر رضامندی ظاہر کرنا کسی بچے مسلمان کا کام ہے۔اگر مولوی صاحب آریوں اور پادریوں کے وکیل بن کر ہماری کتابوں پر کوئی نکتہ چینی کریں اور کوئی افتر اثابت کرنا چاہیں تو ہرگز ان کو میسر نہ ہو گا مگر ہم آریوں اور پادریوں کے صد ہا افترا ثابت کرتے ہیں۔اب حاصل کلام یہ کہ اس طرح پر مولوی صاحب موصوف نے ہماری اس کارروائی کو برباد کیا۔لوگ اس انتظار میں ہوں گے کہ مولوی صاحب کچھ کام کر رہے ہیں۔مگر مولوی صاحب کا مطلب صرف دین کو نقصان پہنچانا تھا اور ہمارے کام میں حرج ڈالنا تھا۔اُن کو ہماری کتابوں کے تلف کرنے کی کیوں فکر پڑ گئی اور مخالفوں کی وہ کروڑ ہا کتا ہیں ان کو بھول گئیں جو گالیوں اور بہتانوں سے بھری ہوئی ہیں یہ تو ظاہر تھا کہ قانون پاس ہونے سے ایسے لوگوں کی کتابیں خود رڈی ہو جائیں گی جو خلاف واقعہ باتوں پر مشتمل ہوں گی اور اُن کی اشاعت ایک جرم میں داخل ہو گی۔انہیں اغراض کے لیے تو قانون کی حاجت تھی۔غرض مولوی محمد حسین صاحب کی حقیقت معلوم ہوگئی۔اُن سے یہ کام ہونا ممکن نہیں اگر ان میں ایک ذرہ اسلام کی خیر خواہی باقی ہے تو چاہیے کہ اپنا استعفا اسی طرح شائع کریں جس طرح ہم نے شائع کیا تھا اور خدا تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی چاہیں جو نا حق فضول گوئی سے چلتے کام کو روک دیا اور ہم یہ وعدہ نہیں کرتے کہ ضرور قانون کو پاس کرا دیں گے۔یہ امرتو اللہ تعالی کے اختیار میں ہے لیکن ہم مولوی صاحب کی طرح فارغ نہیں بیٹھیں گے اور جہاں تک بشری طاقت ہے اس کام کے لیے کوشش کریں گے۔اب اے بھائیو ایک دوسرا کام ہے جو میں شروع کرنا چاہتا ہوں۔آپ لوگ یقیناً سمجھیں کہ سرکا را نگریزی اس درخت کی طرح ہے جو پھلوں سے لدا ہوا ہواور ہر ایک شخص جو میوہ چینی کے قواعد کی رعایت سے اس درخت کی طرف ہاتھ لمبا کرتا ہے تو کوئی نہ کوئی پھل اس کے ہاتھ میں آجاتا ہے۔ہماری بہت سی مرادیں ہیں جن کا مرجع اور مدار خدائے تعالیٰ نے اس گورنمنٹ کو بنا دیا ہے۔اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ رفتہ رفتہ وہ ساری مرادیں اس مہربان گورنمنٹ سے ہمیں حاصل ہوں۔مگر اس