مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 92 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 92

مجموعہ اشتہارات ۹۲ جلد دوم کئے تمہیں اس امر کا ملزم کرتے ہیں کہ تم ضرور عظمت اسلامی سے ڈر کر اُس شرط کو پورا کرنے والے ٹھہرے جو پیشگوئی میں درج تھی پھر اگر تم سے بہت ہی نرمی کریں اور فرض کے طور پر ثابت امر کو مشتبہ تصور کر لیں تب بھی اس اشتباہ کا دُور کرنا جو تم نے اپنے ہاتھوں سے آپ پیدا کیا انصافاً و قانوناً تمہارے ہی ذمہ ہے۔سو اس کا تصفیہ یوں ہے کہ اگر وہ خوف جس کا تمہیں خود اقرار ہے اسلام کی عظمت سے نہیں تھا بلکہ کسی اور وجہ سے تھا تو قسم کھا جاؤ۔اور اس قسم پر تمہیں چار ہزار روپیہ نقد ملے گا اور ایک سال گزرنے کے بعد اگر تم سالم رہ گئے تو وہ سب روپیہ تمہارا ہی ہو جائے گا، لیکن اس نے ہر گز فتم نہ کھائی۔میں نے اس کو اس کے خدا کی بھی قسم دی۔مگر حق کی ہیبت کچھ ایسی دل پر بیٹھ گئی تھی کہ اس طرف منہ کرنا بھی اس کو موت کے برابر تھا۔میں نے اس پر یہ بھی ثابت کر دیا کہ عیسائی مذہب میں کسی نزاع کے فیصلہ کرنے کے لیے قسم کھانا منع نہیں بلکہ ضروری ہے۔مگر آتھم نے ذرہ توجہ نہ کی۔اب ایمانا سوچو کہ یہ امر تنقیح طلب جو سچی رائے ظاہر کرنے کا مدار تھا کس کے حق میں فیصلہ ہوا۔اور کون بھاگ گیا۔اے مخالف لوگو! کیا کوئی تم میں سے سوچنے والا نہیں ! کیا ایک بھی نہیں؟ کیا کسی کو بھی خدا تعالیٰ کا خوف نہیں۔کیا کوئی بھی تم میں سے ایسا نہیں کہ جو سید ھے دل سے اس واقعہ میں غور کرے۔اس قدر افتراء کیوں ہے۔کیوں دلوں پر ایسے پر دے ہیں جو سیدھی بات سمجھ نہیں آتی۔اس بات کو کہتے ہوئے کہ پیشگوئی غلط نکلی۔کیوں تم کو خدا کا خوف نہیں پکڑتا۔کیوں تمہارا دل کانپ نہیں جاتا۔کیا تم انسان ہو یا بالکل مسخ ہو گئے۔وہ آنکھیں کہاں گئیں جو حق کو دیکھتی ہیں۔وہ دل کدھر چلے گئے جو سچائی کو فی الفور سمجھ لیتے ہیں۔اس سے کوئی بے ایمانی بڑھ کر نہیں کہ جو سچی بات کو ناحق جھوٹ بنایا جاوے۔اور نہ اس سے کوئی بدذاتی زیادہ بدتر ہے جو جھوٹ پر خواہ نخواہ ضد کی جاوے۔اب کون سے دلائل باقی ہیں جو ہم تمہارے پاس بیان کریں اور ثبوت میں کونسی کسر رہ گئی ہے جو وہ کسر نکالی جاوے۔خدایا یہ کیسے اندھے ہیں کہ اس بات کو منہ پر لانے کے وقت کہ پیشگوئی غلط نکلی ، پیشگوئی کی شرط کو بھول جاتے ہیں۔یا الہی یہ کیسی بے ایمانی اور بدذاتی ہے جو ہمیں ناحق بار بارستایا جاتا ہے اور