مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 73

کرتے چلے جاتے ہیں لیکن دینی کاموں کے بارے میں جو اِس حیاتِ فانی کا مقصد اصلی ہیں لمبے لمبے تأمّلوں میں پڑ جاتے ہیں زبان سے تو کہتے ہیں جو ہم خدا اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں پر حقیقت میں اُن کو نہ خدا پر ایمان ہے نہ آخرت پر اگر ایک ساعت اپنے بَذلِ اَموال کی کیفیت پر نظر کریں جو خدا داد نعمتوں کو اپنے نفسِ امّارہ کے فربہ کرنے کے لئے ایک برس میں کس قدر خرچ کر ڈالتے ہیں اور پھر سوچیں جو خلق اللہ کی بھلائی اور بہبودی کے لئے ساری عمر میں خالصاً لِلّٰہکتنے کام کئے ہیں تو اپنے خیانت پیشہ ہونے پر آپ ہی رو دیں پر اِن باتوں کو کون سوچے اور وہ پردے جو دل پر ہیں کیونکر دور ہوں      ۱؎ انہیں لوگوں کی پست ہمتی اور دنیا پرستی پر خیال کرکے بعض ہمارے معزز دوستوں نے جو دین کی محبت میں مثل عاشقِ زار پائے جاتے ہیں بمقتضائے بشریّت کے ہم پر یہ اعتراض کیا ہے کہ جس صورت میں لوگوں کا یہ حال ہے تو اتنی بڑی کتاب تالیف کرنا کہ جس کی چھپوائی پر ہزارہا روپیہ خرچ آتا ہے بے موقع تھا سو اُن کی خدمت والا میں یہ عرض ہے کہ اگر ہم ان صدہا دقائق اور حقائق کو نہ لکھتے کہ جو درحقیقت کتاب کے حجم بڑھ جانے کا موجب ہیں تو پھر خود کتاب کی تالیف ہی غیر مفید ہوتی رہا یہ فکر کہ اس قدر روپیہ کیونکر میسر آوے گا سو اِس سے تو ہمارے دوست ہم کو مت ڈراویں اور یقین کرکے سمجھیں جو ہم کو اپنے خدائے قادر مطلق اور اپنے مولیٰ کریم پر اس سے زیادہ تر بھروسا ہے کہ جو مُمسک اور خسیس لوگوں کو اپنی دولت کے ان صندوقوں پر بھروسا ہوتا ہے کہ جن کی تالی ہر وقت اُن کی جیب میں رہتی ہے سو وہی قادر توانا اپنے دین اور اپنی وحدانیت اور اپنے بندہ کی حمایت کے لئے آپ مدد کرے گا۔ ۔۲؎ پناہم آں توانائیست ہر آن زِ بخلِ ناتوانانم مترساں ۳؎ (اشتہار مندرجہ کتاب براہین احمدیہ حصّہ دوم صفحہ الف تا ق ۱۸۸۰ء۔مطبوعہ سفیر ہندپریس امرتسر) (براہین احمدیہ حصّہ دوم روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹ تا ۷۰) ۱؎ الرعد: ۳۴ ۲؎ البقرۃ: ۱۰۷