مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 72

مجموعه اشتہارات ۷۲ جلد اول ہے۔ پادری صاحب فرماتے ہیں جو پچاس سال سے پہلے تمام ہندوستان میں کرسٹان شدہ لوگوں کی تعداد صرف ستائیس ہزار تھی اس پچاس سال میں یہ کارروائی ہوئی جو ستائیس ہزار سے پانچ لاکھ تک شمار عیسائیوں کا پہنچ گیا ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ !! اے بزرگو! اس سے زیادہ تر اور کون سا وقت انتشار گمراہی کا ہے کہ جس کے آنے کی آپ لوگ راہ دیکھتے ہیں ایک وہ زمانہ تھا جو دینِ اسلام يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا لے کا مصداق تھا اور اب یہ زمانہ!!! کیا آپ لوگوں کا دل اس مصیبت کو سن کر نہیں جلتا ؟ کیا اُس وباء عظیم کو دیکھ کر آپ کی ہمدردی جوش نہیں مارتی ؟ اے صاحبانِ عقل و فراست ! اس بات کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ جو فساد دین کی بے خبری سے پھیلا ہے اُس کی اصلاح اشاعت دین پر ہی موقوف ہے سواسی مطلب کو کامل طور پر پورا کرنے کے لئے میں نے کتاب ( براہین احمدیہ کو تالیف کیا ہے اور اس کتاب میں ایسی دھوم دھام سے حقانیت اسلام کا ثبوت دکھلایا گیا ہے کہ جس سے ہمیشہ کے مجادلات کا خاتمہ فتح عظیم کے ساتھ ہو جاوے گا۔ اس کتاب کی اعانت طبع کے لئے جس قدر ہم نے لکھا ہے وہ محض مسلمانوں کی ہمدردی سے لکھا گیا ہے کیونکہ ایسی کتاب کے مصارف جو ہزار ہا روپیہ کا معاملہ ہے اور جس کی قیمت بھی بہ نیت عام فائدہ مسلمانوں کے نصف سے بھی کم کر دی گئی ہے یعنی پچیس روپیہ میں سے صرف دس روپیہ رکھے گئے ہیں وہ کیونکر بغیر اعانت عالی ہمت مسلمانوں کے انجام پذیر ہو۔ بعض صاحبوں کی سمجھ پر رونا آتا ہے جو وہ بروقت درخواست اعانت کے یہ جواب دیتے ہیں وہ ہر کہ ہم کتاب کو بعد طیاری کتاب کے خرید لیں گے پہلے نہیں ان کو سمجھنا چاہیے کہ یہ کچھ تجارت کا معاملہ نہیں اور مؤلف کو بجز تائید دین کے کسی کے مال سے کچھ غرض نہیں اعانت کا وقت تو یہی ہے کہ جب طبع کتاب میں مشکلات پیش آ رہی ہیں ورنہ بعد چھپ چکنے کے اعانت کرنا ایسا ہے کہ جیسے بعد تندرستی کے دوا دینا پس ایسی لا حاصل اعانت سے کسی ثواب کی توقع ہوگی؟ خدا نے لوگوں کے دلوں سے دینی محبت کیسی مٹادی جو اپنے ننگ و ناموس کے کاموں میں ہزار ہا روپیہ آنکھ بند کر کے خرچ ا النصر : ٣