مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 69
مجموعه اشتہارات ۶۹ جلد اول اور کسی وقت کسی رنگ میں اور کسی وقت کسی رنگ میں پھیلتے ہیں اب مؤلف کسی کتاب کا جوان خیالات کو مٹانا چاہتا ہے اس کو ضرور ہوتا ہے جو وہ طبیب حاذق کی طرح مزاج اور طبیعت اور مقدار فساد اور قسم فساد پر نظر کر کے اپنی تدبیر کو عَلَى قَدْرِ مَا يَنْبَغِى وَ عَلَى نَحْوِ مَا يَنْبَغِی عمل میں لاوے۔ اور جس قدر یا جس نوع کا بگاڑ ہو گیا ہے اسی طور سے اس کی اصلاح کا بندو بست کرے اور وہی طریق اختیار کرے کہ جس سے احسن اور اسہل طور پر اس مرض کا ازالہ ہوتا ہو کیونکہ اگر کسی تالیف میں مخاطبین کے مناسب حال تدارک نہ کیا جائے تو وہ تالیف نہایت نکمی اور غیر مفید اور بے سود ہوتی ہے اور ایسی تالیف کے بیانات میں یہ زور ہرگز نہیں ہوتا جو منکر کی طبیعت کے پورے گہراؤ تک غوطہ لگا کر اس کے دلی خلجان کو بکلی مستاصل کرے پس ہمارے معترضین اگر ذرا غور کر کے سوچیں گے تو ان پر یہ یقین کامل واضح ہو جائے گا کہ جن انواع و اقسام کے مفاسد نے آج کل دامن پھیلا رکھا ہے ان کی صورت پہلے فسادوں کی صورت سے بالکل مختلف ہے وہ زمانہ جو کچھ عرصہ پہلے اس سے گزر گیا ہے وہ جاہلا نہ تقلید کا زمانہ تھا۔ اور یہ زمانہ کہ جس کی ہم زیارت کر رہے ہیں یہ عقل کی بد استعمالی کا زمانہ ہے۔ پہلے اس سے اکثر لوگوں کو نا معقول تقلید نے خراب کر رکھا تھا اور اب فکر اور نظر کی غلطی نے بہتوں کی مٹی پلید کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن دلائل عمیقہ اور براہین قاطعہ لکھنے کی ہم کو ضرورتیں پیش آئیں وہ ان نیک اور بزرگ عالموں کو کہ جنہوں نے صرف جاہلانہ تقلید کا غلبہ دیکھ کر کتا بیں لکھی تھیں پیش نہیں آئی تھیں ہمارے زمانہ کی نئی روشنی ( کہ خاک بر فرق ایں روشنی ) نو آموزوں کی روحانی قوتوں کو افسردہ کر رہی ہے۔ ان کے دلوں میں بجائے خدا کی تعظیم کے اپنی تعظیم سما گئی ہے اور بجائے خدا کی ہدایت کے آپ ہی ہادی بن بیٹھے ہیں ۔ اگر چہ آج کل تقریباً تمام نو آموزوں کا قدرتی میلان وجوہات عقلیہ کی طرف ہو گیا ہے لیکن افسوس کہ یہی میلان باعث عقل نا تمام اور علم خام کے بجائے رہبر ہونے کے رہزن ہوتا جاتا ہے اور فکر اور نظر کی کجروی نے لوگوں کے قیاسات میں بڑی بڑی غلطیاں ڈال دی ہیں اور مختلف رایوں اور گوناگوں خیالات کے شائع ہونے کے باعث سے کم فہم لوگوں کے لئے بڑی بڑی دقتیں پیش آ گئی ہیں سو فسطائی تقریروں نے نو آموزوں کی طبائع میں طرح طرح کی پیچیدگیاں پیدا