مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 65

مجموعه اشتہارات ۶۵ جلد اول پیرا یہ میں نہ واقعی ضرورت کے انجام دینے کی نیت سے جیسے ایک کو مسجد بنواتے دیکھ کر دوسرا بھی جو اس کا حریف ہو خواہ نخواہ اس کے مقابلہ پر مسجد بنواتا ہے اور خواہ واقعی ضرورت ہو یا نہ ہو مگر ہزار ہا روپیہ خرچ کر ڈالتا ہے کسی کو یہ خیال پیدا نہیں ہوتا جو اس زمانہ میں سب سے مقدم اشاعت علم دین ہے اور نہیں سمجھتے کہ اگر لوگ دیندار ہی نہیں رہیں گے تو پھر ان مسجدوں میں کون نماز پڑھے گا صرف پتھروں کے مضبوط اور بلند میناروں سے دین کی مضبوطی اور بلندی چاہتے ہیں اور فقط سنگ مرمر کے خوبصورت قطعات سے دین کی خوبصورتی کے خواہاں ہیں لیکن جس روحانی مضبوطی اور بلندی اور خوبصورتی کو قرآن شریف پیش کرتا ہے اور جو أَصْلُهَا ثَابِتٌ وَفَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ل کا مصداق ہے اس کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور اس شجرہ طیبہ کے ظل ظلیل دکھلانے کی طرف ذرا متوجہ نہیں ہوتے۔ اور یہود کی طرح صرف ظواہر پرست بن رہے ہیں۔ نہ دینی فرائض کو اپنے محل پر ادا کرتے ہیں اور نہ ادا کرنا جانتے ہیں اور نہ جاننے کی کچھ پروا رکھتے ہیں ۔ اگر چہ یہ بات قابل تسلیم ہے جو ہر سال میں ہماری قوم کے ہاتھ سے بے شمار روپیہ بنام نہاد خیرات و صدقات کے نکل جاتا ہے مگر افسوس جو اکثر لوگ ان میں سے نہیں جانتے کہ حقیقی نیکی کیا چیز ہے اور بدل اموال میں اصلح اور انسب طریقوں کو مد نظر نہیں رکھتے اور آنکھ بند کر کے بے موقع خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر جب سارا شوق دلی اسی بے موقع خرچ کرنے میں تمام ہو جاتا ہے تو موقعہ پر آ کر اصلی فرض کے ادا کرنے سے بالکل قاصر رہ جاتے ہیں اور اپنے پہلے اسراف اور افراط کا تدارک بطور تفریط اور ترک ما وجب کے کرنا چاہتے ہیں یہ ان لوگوں کی سیرت ہے کہ جن میں روح کی اوج کے کرنا چاہتے ہیں یا کی سیرت ہے کہ جن میں روح کی سچائی سے قوت فیاضی اور نفع رسانی کی جوش نہیں مارتی بلکہ صرف اپنی ہی طمع خاص سے مثلاً بوڑھے ہو کر پیرانہ سالی کے وقت میں آخرت کی تن آسانی کا حیلہ سوچ کر مسجد بنوانے اور بہشت میں بنا بنایا بنا گھر لینے کا لالچ پیدا ہو جاتا ہے اور حقیقی نیکی پر ان کی ہمدردی کا یہ حال ہے کہ اگر کشتی دین کی ان کی نظر کے سامنے ساری کی ساری ڈوب جائے یا تمام دین ایک دفعہ ہی تباہ ہو جائے تب بھی ان کے دل کو ابراهیم : ۲۵