مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 64
اور تحمل اور مجاہدات افعالِ خیر میں سب سے بڑھ کر ہیں ان کو بھی بہ رعایت اسباب ظاہری ۱؎ کہنا پڑا خدا نے بھی اپنے قانون تشریعی میں بہ تصدیق اپنے قانون قدرت ۲؎ کا حکم فرمایا۔مگر افسوس جو مسلمانوں میں سے بہتوں نے اس اصول متبرک کو فراموش کردیا ہے اور ایسی اصلِ عظیم کو کہ جس پر ترقی اور اقبال دین کا سارا مدار تھا بالکل چھوڑ بیٹھے ہیں اور دوسری قومیں کہ جن کی الہامی کتابوں میں اس بارے میں کچھ تاکید بھی نہیں تھی وہ اپنی دلی تدبیر سے اپنے دین کی اشاعت کے شوق سے مضمون تَعَاوَنُوْا پر عمل کرتی جاتی ہیں اور خیالات مذہبی ان کے بباعث قومی تعاون کے روز بروز زیادہ سے زیادہ پھیلتے چلے جاتے ہیں آج کل عیسائیوں کی قوم کو ہی دیکھو جو اپنے دین کے پھیلانے میں کس قدر دلی جوش رکھتے ہیں اور کیا کچھ محنت اور جانفشانی کررہے ہیں لاکھ ہا روپیہ بلکہ کروڑہا ان کا صرف تالیفات جدیدہ کے چھپوانے اور شائع کرنے کی غرض سے جمع رہتا ہے۔ایک متوسط دولتمند یورپ یا امریکہ کا اشاعت تعلیم انجیل کے لئے اس قدر روپیہ اپنی گرہ سے خرچ کردیتا ہے جو اہل اسلام کے اعلیٰ سے اعلیٰ دولت مند مِنْ حَیْثُ الْمَجْمُوْع بھی اس کی برابری نہیں کرسکتے یوں تو مسلمانوں کا اس ملک ہندوستان میں ایک بڑا گروہ ہے اور بعض متمول اور صاحب توفیق بھی ہیں مگر امور خیر کی بجاآوری میں (باستثنائے ایک جماعت قلیل امراء اور وزراء اور عہدہ داروں کے) اکثر لوگ نہایت درجہ کے پست ہمت اور منقبض الخاطر اور تنگ دل ہیں کہ جن کے خیالات محض نفسانی خواہشوں میں محدود ہیں اور جن کے دماغ استغنا کے مواد ردیہ سے متعفن ہورہے ہیں یہ لوگ دین اور ضروریات دین کو تو کچھ چیز ہی نہیں سمجھتے۔ہاں ننگ و نام کے موقعہ پر سارا گھر بار لٹانے کو بھی حاضر ہیں۔خالصاً دین کے لئے عالی ہمت مسلمان (جیسے ایک سیدنا ومخدومنا حضرت خلیفہ سید محمدحسن خان صاحب بہادر وزیراعظم پٹیالہ) اس قدر تھوڑے ہیں کہ جن کو انگلیوں پر بھی شمار کرنے کی حاجت نہیں۔ماسوا اس کے بعض لوگ اگر کچھ تھوڑا بہت دین کے معاملہ میں خرچ بھی کرتے ہیں تو ایک رسم کے