مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 50
ہی کیا ہے۔بستم حصہ دلائل عقلیہ کا بھی اندراج نہیں پاتا مثلاً جب ہم ایسے شخص سے بحث کرتے ہیں جو وجود صانع عالم کا قائل ہے الہام کا مقر ہے خالقیت باری تعالیٰ کو مانتا ہے تو پھر ہم کو کیا ضرور ہوگا جو دلائل عقلیہ سے اس کے روبرو اثبات وجود صانع کریں یا ضرورت الہام کی وجوہ دکھلاویں یا خالقیت باری تعالیٰ پر دلائل لکھیں بلکہ بالکل بیہودہ ہوگا کہ جس بات کا کچھ تنازع ہی نہیں اس کا جھگڑا لے بیٹھیں مگر جس شخص کو مختلف عقائد مختلف عندیات مختلف عذارت مختلف شبہات کا مقابلہ کرنا پڑتا ہے اس کی تحقیقاتوں میں کسی قسم کی فروگذاشت باقی نہیں رہتی۔علاوہ اس کے جو خاص قوم کے مقابلہ پر کچھ لکھا جاتا ہے وہ اکثر اس قسم کی دلائل ہوتی ہیں جو دوسری قوم پر حجت نہیں ہوسکتیں مثلاً جب ہم بائبل شریف سے چند پیشین گوئی نکال کر صدق نبوت حضرت خاتم انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم بذریعہ ان کے ثابت کریں تو گو ہم اس ثبوت سے عیسائیوں اور یہودیوں کو ملزم کردیں مگر جب ہم وہ ثبوت کسی ہندو یا مجوسی یا فلسفی یا برہمو سماجی کے روبرو پیش کریں گے تو وہ یہی کہے گا کہ جس حالت میں مَیں ان کتابوں کو ہی نہیں مانتا تو پھر ایسا ثبوت جو انہیں سے لیا گیا ہے کیونکر مان لوں اسی طرح جو بات مفید مطلب ہم وید سے نکال کر عیسائیوں کے سامنے پیش کریں گے تو وہ بھی یہی جواب دیں گے پس بہرحال ایسی کتاب کی اشد ضرورت تھی کہ جو ہر ایک فرقہ کے مقابلہ پر سچائی اور حقّیتِ اسلام کی دلائل عقلیہ سے ثابت کرے کہ جن کے ماننے سے کسی انسان کو چارہ نہیں سو الحمدللہ کہ ان تمام مقاصد کے پورا کرنے کے لئے یہ کتاب طیار ہوئی۔دوسری اس کتاب میں یہ بھی خوبی ہے جو اس میں معاندین کے بے جا عذرات رفع کرنے کے لئے اور اپنی حجت ان پر پوری کرنے کے لئے خوب بندوبست کیا گیا ہے یعنی ایک اشتہار تعدادی دس ہزار روپیہ کا اسی غرض سے اس میں داخل کیا گیا ہے کہ تا منکرین کو کوئی عذر اور حیلہ باقی نہ رہے اور یہ اشتہار مخالفین پر ایک ایسا بڑا بوجھ ہے کہ جس سے سبکدوشی حاصل کرنا قیامت تک ان کو نصیب نہیں ہوسکتا اور نیز یہ ان کی منکرانہ زندگی کو ایسا تلخ کرتا ہے جو انہیں کا جی جانتا ہوگا۔غرض یہ کتاب نہایت ہی ضروری اور حق کے طالبوں کے لئے نہایت ہی مبارک ہے کہ جس سے حقّیتِ اسلام کی مثل آفتاب کے واضح اور نمایاں اور روشن ہوتی