مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 47
مجموعه اشتہارات ۴۷ جلد اول ہو رہی ہے اور خیالات اکثر طبائع کے حالت خرابی اور ابتری میں پڑے ہوئے ہیں کسی پر پوشیدہ نہ ہوگا کیا کیا را ئیں ہیں جو نکل رہی ہیں کیا کیا ہوائیں ہیں جو چل رہی ہیں کیا کیا بخارات ہیں جو اٹھ رہے ہیں پس جن جن صاحبوں کو ان اندھیریوں سے جو بڑے بڑے درختوں کو جڑ سے اکھیڑتی جاتی ہیں کچھ خبر ہے وہ خوب سمجھتے ہوں گے جو تالیف اس کتاب کی بلا خاص ضرورت کے نہیں ۔ ہر زمانہ کے باطل اعتقادات اور فاسد خیالات الگ رنگوں اور وضعوں میں ظہور پکڑتے ہیں اور خدا نے اُن کے ابطال اور ازالہ کے لئے یہی علاج رکھا ہوا ہے جو اسی زمانہ میں ایسی تالیفات مہیا کر دیتا ہے جو اس کی پاک کلام سے روشنی پکڑ کر پوری پوری قوت سے ان خیالات کی مدافعت کے لئے کھڑی ہو جاتی ہیں اور معاندین کو اپنی لا جواب براہین سے ساکت اور ملزم کرتی ہیں۔ پس ایسے انتظام سے پودہ اسلام کا ہمیشہ سرسبز اور تر و تازہ اور شاداب رہتا ہے۔ اے معزز بزرگان اسلام !! مجھے اس بات پر یقین گلتی ہے کہ آپ سب صاحبان پہلے سے اپنے ذاتی تجربہ اور عام واقفیت سے ان خرابیوں موجودہ زمانہ پر کہ جن کا بیان کرنا ایک دردانگیز قصہ ہے بخوبی اطلاع رکھتے ہوں گے اور جو جو فساد طبائع میں واقع ہو رہے ہیں اور جس طرح پر لوگ بباعث اغوا اور اضلال وسوسہ اندازوں کے بگڑتے جاتے ہیں آپ پر پوشیدہ نہ ہوگا پس یہ سارے نتیجے اسی بات کے ہیں کہ اکثر لوگ دلائل حقیت اسلام سے بے خبر ہیں اور اگر کچھ پڑھے لکھے ہیں تو ایسے مکاتب اور مدارس میں کہ جہاں علوم دینیہ بالکل سکھائے نہیں جاتے اور سارا عمدہ زمانہ ان کے فہم اور ادارک اور تفکر اور تدبر کا اور اور علوم اور فنون میں کھویا جاتا ہے اور کوچہ و دین سے محض نا آشنا رہتے ہیں پس اگر ان کو دلائل حقیت اسلام سے جلد تر باخبر نہ کیا جائے تو آخر کار ایسے لوگ یا تو محض دنیا کے کیڑے ہو جاتے ہیں کہ جن کو دین کی کچھ بھی پروا نہیں رہتی یا الحاد اور ارتداد کا لباس پہن لیتے ہیں۔ یہ قول میرا محض قیاسی بات نہیں بڑے بڑے شرفا کے بیٹے میں نے اپنی آنکھ سے دیکھے ہیں جو بباعث بے خبری دینی کے اصطباغ پائے ہوئے گرجا گھروں میں بیٹھے ہیں اگر فضل عظیم پروردگار کا ناصر اور حامی اسلام کا نہ ہوتا اور وہ بذریعہ پُر زور تقریرات اور تحریرات علماء اور فضلاء کے اپنے اس سچے دین کی