مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 602 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 602

وجہ سے میرے دشمن ہو گئے ہیں کہ میں نے اُن کے خونی مہدی اور خونی مسیح سے انکار کر دیا اور نہ صرف انکار بلکہ منجانب اللہ ان باتوں کا صحیح ہونا بیان کر کے اور مہدی اور مسیح کے منصب کو صرف رُوحانی تعلیم تک محدود رکھ کر ان کی آرزوؤں کو خاک میں ملا دیا۔اور مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ دین کا کمال یہ نہیں ہے کہ کوئی مصلح آتے ہی خدا تعالیٰ کے بندوں کو قتل کرنا شروع کرے یا قتل کے منصوبے باندھے۔کوئی سچائی قتل کرنے سے ثابت نہیں ہو گی بلکہ اس پر الزام آئے گا۔بلکہ دین کا کمال یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ دلائل شافیہ اور براہین ساطعہ کے روشن اور مجلّٰی ہتھیار رکھتا ہو نہ یہ کہ ایسا دین ہو کہ لوہے کی تلواروں کے ساتھ اپنی سچائی تعلیم کرانا چاہے اور اسلام نے اگر کسی زمانہ میں تلوار اُٹھائی تو وہ دین کی اشاعت کے لیے ہرگز نہیں تھی بلکہ جنہوں نے اسلام پر تلوار اُٹھائی اور اسلام کو نابود کرنا چاہا ان کو اسلام نے بھی تلوار کے ساتھ جواب دیا مگر اسی حد تک جو امن قائم ہو جائے اور عام آزادی میں کوئی روک نہ رہے پھر دوسرے زمانوں میں اکثر نادانوں میں غلطیاں پھیل گئیں اور انہوں نے ابتدائی جہادوں کو اصل حقیقت کو اُلٹے طور پر سمجھ لیا۔پس انہیں غلطیوں کے نابود کرنے کے لئے ہم نے کمرِ ہمّت باندھی۔سو دجّال کے لفظ سے مُراد دجل کرنے والے لوگ ہیںیعنی ایسے لوگ جن کو کسی زمانہ میں حق ملا تھا۔مگر انہوں نے حق کو خالص نہ رہنے دیا بلکہ اس کے ساتھ باطل ملا دیا اور سکّہ قلب چلایا۔سو ہریک محقق کی دانست میں اس زمانہ کے پادری ایسے ہی ہیں کیونکہ ان کو ایک پاک ہدایت ملی تھی اور وہ انجیل تھی جس میں سراسر نیک اور پاک تعلیم اور الٰہی اسرار تھے۔مگر انہوں نے ارادتاً اس کے ساتھ اس قدر باطل ملایا اور باطل تاویلیں کیں کہ اب اُن کا وہ خدا نہیں جس کا جلال ظاہر کرنے کے لیے حضرت مسیح تشریف لائے تھے اور جو ایک سادہ تعلیم سے انجیل میںبیان کیا گیا تھا بلکہ انہوں نے اپنی رکیک تاویلوں کے ساتھ اس پاک تعلیم کو ایسا بدل ڈالا کہ گویا ایک نئی انجیل بنائی پس جبکہ دجل کی حقیقت ان پر ثابت ہے تو اس صورت میں ایسے معلّموں کو اگر ہم دجّال نہ کہیںتو اور کیا کہیں۔دجّال کے لیے ضروری ہے کہ کسی نبی برحق کا تابع ہو کر پھر سچ کے ساتھ باطل ملا دے۔بے شک حضرت مسیح باخدا انسان تھے۔خدا تعالیٰ کے پیارے تھے۔نہایت مقدس تھے۔مگر یہ تعلیم ان