مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 601 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 601

باشندوں سے بُجز کافر کہنے کے کسی اور انعام کی توقع تھی۔کیا سول ملٹری گزٹ کے پاس کسی ایسی خیرخواہ گورنمنٹ کی کوئی اور بھی نظیر ہے؟ اگر ہے تو پیش کریں۔لیکن مَیں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ جس قدر میں نے کارروائی گورنمنٹ کی خیر خواہی کے لیے کی ہے اس کی نظیر نہیں ملے گی۔ہاں یہ سچ ہے کہ عیسائی مذہب کو مَیں اس کی موجودہ صورت کے لحاظ سے ہرگز صحیح نہیں سمجھتا کوئی انسان کیسا ہی برگزیدہ ہو اس کو ہم کسی طرح خدا نہیں کہہ سکتے۔بلاشبہ وہ تعلیم جو انسان کو سچی توحید سکھاتی اور حقیقی خدا کی طرف سے رجوع دیتی ہے وہ قرآن کریم میںپائی جاتی ہے۔قرآن بڑی سلوکی سے اسی خدا کو خدا قرار دیتا ہے جو قدیم سے اور ازل سے قانون قدرت کے آئینہ میں نظر آتا رہا ہے اور آ رہا ہے۔پس جس مذہب کی خدا دانی ہی غلط ہے اس مذہب سے عقلمند کو پرہیز کرنا چاہیئے۔جو لوگ نفسانی ہستی سے فنا ہو گئے ان کو ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہ خدا سے ہی نکلے ہیں کیونکہ انہوں نے خدا میں ہو کر ایک نئی اور نورانی پیدائش پائی۔اور خدا نے ان کو اپنے ہاتھ سے ایسا صاف کیا کہ فی الحقیقت وہ ایک نئے طور سے پیدا ہوئے لیکن ہم کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ درحقیقت اِلٰہُ الْعَالَمِیْن وہی ہیں۔خدا میں فانی ہو کر نئی پیدائش پانا کسی ایک انسان سے مخصوص نہیں بلکہ جس نے ڈھونڈا وہ پائے گا اور جو آیا اُسے بُلا لیا جائے گا۔لیکن جس کریم خدا نے ہمیں یہ باتیں سکھائی ہیں اس نے یہ بھی سکھایا ہے کہ ہم محسن گورنمنٹ کے شکر گذار ہیں۔قرآن کریم کی یہ تعلیم نہیں ہے کہ ہم نیکی دیکھ کر اُس کے عوض بدی کریں بلکہ یہ تعلیم ہے کہ احسان کے عوض احسان کریں اور جو لوگ کسی محسن سلطنت کے احسان مند ہو کر پھر اسی کی نسبت بد ارادے دل میں رکھتے ہیں وہ وحشی نادان ہیں نہ مسلمان اور ہم نے اگر کسی کتاب میں پادریوں کا نام دجّال رکھا ہے یا اپنے تئیں مسیح موعود قرار دیا ہے تو اس کے وہ معنی مراد نہیں جو بعض ہمارے مخالف مسلمان سمجھتے ہیں۔ہم کسی ایسے دجّال کے قائل نہیں جو اپنا کُفر بڑھانے کے لیے خونریزیاں کرے اور نہ کسی ایسے مسیح اور مہدی کے قائل ہیں جو تلوار کے ذریعہ سے دین کی ترقی چاہے۔یہ اس زمانہ کے بعض کوتہ اندیش مسلمانوں کی غلطیاں ہیں جو کسی خونی مہدی یا خونی مسیح کے منتظر ہیں۔چاہیے کہ گورنمنٹ ہماری کتابوں کو دیکھے کہ کس قدر ہم اس اعتقاد کے دشمن ہیں اور کس قدر عام مولوی اس