مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 593 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 593

قائم کر دی اور اگر پہلے بھی ایسا اتفاق انہوں نے نصاریٰ سے کیا ہے اور ان کو غالب قرار دیا ہے تو اس کی بھی نظیر بتلاویں۔اور اگر پہلے بھی کسی ایسے شخص کے وقت میں جو مہدی ہونے کا دعویٰ کرتا ہو چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان میں اکٹھے ہو گئے ہوں تو اس کی نظیر پیش کریں۔اور اگر پہلے بھی کسی مہدی کے لوگوں اور نصاریٰ کا کچھ جھگڑا پڑا ہو اور نصاریٰ نے اپنی فتح یابی کے لئے ایسی شیطانی آوازیں نکالی ہوں تو اس کی نظیر بھی بتلا ویں۔اور ہم ہر چہار نظیروں کے پیش کرنے والے کے لئے ہزار روپیہ نقد انعام مقرر کرتے ہیں۔ہم اس روپیہ کے دینے میں کوئی شرط مقرر نہیں کرتے صرف اس قدر ہوگا کہ بعد درخواست یہ ہزار روپیہ مولوی محمد حسن صاحب لدھیانوی کے پاس تین ہفتہ کے اندر جمع کرا دیا جاوے گا اور مولوی صاحب موصوف ایک تاریخ پر جو ان کی طرف سے مقرر ہو فریقین کو اپنے مکان پر بلا کر بلند آواز سے تین مرتبہ قسم کھائیں گے اور کہیں گے کہ میں اللہ جلّ شانُـہٗ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ واقعات جو پیش کئے گئے بے نظیر نہیں ہیں اور جو کچھ ان کی نظیریں بتلائی گئی ہیں وہ واقعی طور پر صحیح اور درست اور یقینی اور قطعی ہیں۔اور بخدا ان نشانیوں کے مصداق ہونے کا مدعی درحقیقت کافر ہے اور میں بصیرت کاملہ سے کہتا ہوں کہ ضرور وہ کافر ہے اور اگر میں جھوٹ بولتا ہوں تو میرے پر وہ عذاب اور قہر الٰہی نازل ہو جو جھوٹوں پر ہوا کرتا ہے۔اور ہم ہریک مرتبہ کے ساتھ آمین کہیں گے اور واپسی روپیہ کی کوئی شرط نہیں اور نہ عذاب کے لئے کوئی میعاد مقرر ہے۔ہمارے لئے یہ کافی ہوگا کہ یا تو مولوی صاحب خدا تعالیٰ سے ڈریں اور قسم نہ کھاویں اور یا تمام مکفّروں کے سرگروہ بن کر قسم کھالیں اور اس کے ثمرات دیکھیں۔اور ہم اس جگہ علمائے وقت کی خدمت میں بہ ادب عرض کرتے ہیں کہ وہ تکفیر اور انکار میں جلدی نہ کریں۔کیا ممکن نہیں کہ جس کو وہ جھوٹا کہتے ہیں اصل میں سچا وہی ہو۔پس جلدی کر کے ناحق کی رو سیاہی کیوں لیتے ہیں۔کیا کسی جھوٹے کے لئے آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں یا کبھی خدا نے کسی جھوٹے کو ایسی لمبی مہلت دی کہ وہ بارہ برس سے برابر الہام اور مکالمہ الٰہیہ کا دعویٰ کر کے دن رات خدا تعالیٰ پر افترا کرتا ہو اور خدا تعالیٰ اس کو نہ پکڑے بھلا اگر کوئی نظیر ہے تو ایک تو بیان کریں ورنہ اس قادر منتقم سے ڈریں۔جس کا غضب