مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 592
ہوگئے ہوں مگر یہ کبھی نہیں ہوا اور ہرگز نہیں ہوا کہ بجز ہمارے اس زمانہ کے دنیا کی ابتدا سے آج تک کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن رمضان کے مہینہ میں ایسے طور سے اکٹھے ہوگئے ہوں کہ اس وقت کوئی مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت بھی موجود ہو۔ایسا ہی اگرچہ پہلے بھی نصاریٰ سے مباحثات مذہبی ہوتے رہے ہیں لیکن جو نصاریٰ نے اب شوخیاں دکھلائیں اور تمام ملک میں شیطانی آوازیں سنائیں اور گدھوں پر سوار ہوئے اور بہروپ بنائے ایسا استہزا ان کی طرف سے کبھی ظہور میں نہیں آیا اور نہ اُس استہزا کا بدل جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والا ہے جو ربّانی آواز ہے کبھی ایسا ظاہر ہوا جیسا کہ بعد اس کے ظاہر ہوگا۔سننے والے یاد رکھیں۔ایسا ہی اگرچہ بعض مسلمان جو منافق طبع ہیں پادریوں کے ساتھ اس سے پہلے بھی مداہنہ کے ساتھ پیش آتے رہے ہیں مگر جو اب مولویوں اور ان کے ناقص العقل چیلوں نے ان پادری دجالوں کی ہاں کے ساتھ ہاں ملائی اور ان کو فتح یاب قرار دیا اور ان کی خوشی کے ساتھ خوشی منائی اور شوخی اور چالاکی سے صدہا اشتہار لکھے اور اہل حق پر لعنتیں بھیجیں اور ان لعنتوں سے نصاریٰ کو خوش کیا اور نصاریٰ کو غالب قرار دیا اس کی نظیر تیرہ سو برس میں کسی صدی میں نہیں پائی جاتی۔پس یہ اُسی پیشگوئی کا ظہور ہے کہ جو حدیثوں میں آیا ہے کہ ستر ہزار مسلمان کہلانے والے دجال کے ساتھ مل جائیں گے۔اب علمائے مکفرین بتلا ویں کہ یہ باتیں پوری ہو گئیں یا نہیں۔بلکہ یہ دو علامتیں یعنی مہدی ہونے کے مدعی کو بڑے زور و شور سے کافر اور دجال کہنا اور نصاریٰ کی تائید کرنا اور ان کو فتحیاب قرار دینا اپنے ہاتھ سے مولویوں نے ایسے طور سے پورے کیں جن کی نظیر پہلے زمانوں میں نہیں پائی جاتی۔نادانی سے پہلے باہم مشورہ کر کے سوچ نہ لیا کہ اس طور سے تو ہم دو نشانیوں کا آپ ہی ثبوت دے دیں گے جس شدّ و مَد سے اس عاجزکی تکفیر کی گئی ہے اگر پہلے بھی کسی مہدی ہونے کے مدعی کی اس زور و شور سے تکفیر ہوئی ہے اور یہ لعن و طعن کی بارش اور کافر اور دجال کہنا اور دین کا بیخ کن قرار دینا اور تمام ملک کے علماء کا اس پر اتفاق کرنا اور تمام ممالک میں اس کو شہرت دینا پہلے بھی وقوع میں آیا ہے تو اس کی نظیر پیش کریں جو طَابَقَ النَّعْلُ بِالنَّعْلِ کا مصداق ہو ورنہ مہدی موعود کی ایک خاص نشانی انہوں نے اپنے ہاتھ سے