مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 591
جاتی اور کوئی منصوبہ چل نہیں سکتا کیونکہ مہدی کا ظہور بہت پہلے ہوکر پھر مؤید دعویٰ کے طور پر سورج گرہن بھی ہوگیا۔نہ یہ کہ ان دونوں کو دیکھ کر مہدی نے سر نکالا۔اس قسم کے تائیدی نشان ہمارے سید نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے بھی پہلی کتابوں میں لکھے گئے تھے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے بعد ظہور میں آئے اور دعویٰ کے مصدق اور مؤید ہوئے۔غرض ایسے نشان قبل از دعویٰ مہمل اور بے کار ہوتے ہیں کیونکہ ان میں گنجائش افترا بہت ہے۔اور اس پر اور بھی قرینہ ہے اور وہ یہ ہے کہ خسوف۱ اور کسوف۲ اور مہدی کا رمضان کے مہینے میں موجود ہونا خارق عادت ہے اور صرف اجتماع خسوف کسوف خارق عادت نہیں۔(۳)۔تیسرا نشان مہدی موعود کا یہ ہے کہ اس کے وقت میں ایک فتنہ ہوگا۔اور نصاریٰ اور مہدی کے لوگوں کا ایک جھگڑا پڑ جائے گا۔نصاریٰ کے لئے شیطان آواز دے گا کہ اَلْحَقُّ فِیْ اٰلِ عِیْسٰی یعنی حق عیسیٰ کے لوگوں میں ہے اور فتح عیسائیوں کی ہے۔اور مہدی کے لوگوں کیلئے آسمانی آواز آئے گی یعنی نشانوں اور تائیدوں کے ساتھ ربّانی گواہی یہ ہوگی کہ اَلْحَقُّ فِیْ اٰلِ مُحَمَّدٍ یعنی حق مہدی کے لوگوں میں ہے۔آخر اس آواز کے بعد شیطانی تاریکی اٹھ جائے گی اور لوگ اپنے امام کو شناخت کر لیں گے۔(۴)۔چوتھی مہدی کی یہ نشانی ہے کہ اس کے وقت میں بہت سے مسلمان یہودی طبع دجّال سے مل جائیں گے یعنی وہ لوگ بظاہر مسلمان کہلائیں گے اور دجال کی ہاں کے ساتھ ہاں ملاویں گے یعنی نصاریٰ کے دعویٰ فتح کے مُصدِّق ہوں گے۔یہ چار نشانیاں ایسی ہیں کہ مہدی کے لئے خاص ہیں اور اگرچہ اس زمانہ سے پہلے بھی بہت سے اہل اللہ اور بزرگوں کو کافر ٹھہرایا گیا مگر نشانی کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مہدی موعود کی اس زور و شور سے تکفیر کی جائے گی کہ اُس سے پہلے کبھی مولویوں نے ایسے زور و شور سے کسی کی تکفیر نہیں کی ہوگی اور نہ کسی کو ایسے زور و شور سے دجال کہا ہوگا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس عاجز کو نہ صرف کافر بلکہ اکفر کہا گیا۔ایسا ہی ممکن ہے کہ پہلے بھی کسی مہینہ میں چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے