مجموعہ اشتہارات (جلد 1)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 590 of 623

مجموعہ اشتہارات (جلد 1) — Page 590

(۱)۔یہ کہ علماء اس کی تکفیر کریں گے اور اس کا نام کافر اور دجّال اور بے ایمان رکھیں گے اور تمام مل کر اس کی تکذیب کریں گے اور اس کی تحقیر اور سبّ و شتم کے لئے کمر باندھیں گے اور اس کی نسبت نہایت سخت کینہ پیدا کریں گے اور اس کو ملحد اور مرتد خیال کریں گے اور اس کی نسبت مشہور کریں گے کہ یہ تو اسلام کی بیخ کنی کر رہا ہے یہ مہدی کیسا ہے۔اور لعنت اور کافر کافر کہنے کو موجب ثواب اور اجر سمجھیں گے اور اس کو اس زمانہ کے مولوی ہرگز قبول نہیں کریں گے۔مگر آخری دنوں میں جب اس کی حقیقت کھل جائے گی محض نفاق سے مان لیں گے دل سے نہیں اور مہدی کو قبول کرنے والے اکثر عوام یا گوشہ گزیں یا پاک دل فقرا ہوں گے جو اپنی صحیح مکاشفات سے اس کو شناخت کرلیں گے۔مگر مولویوں کو بجز اس کے اور کوئی حصہ نہیں ملے گا کہ اس کو بے دین اور کافر اور دجال کہیں گے۔اور اس وقت کے مولوی ان سب سے بدتر ہوں گے جو زمین پر رہتے ہیں۔ان کی زیر کی اور فراست جاتی رہے گی وہ عمیق باتوں کو سن کر فی الفور انکار کردیں گے کہ یہ باتیں تو ہمارے قدیم عقائد کے مخالف ہیں۔(۲)۔دوسرا نشان مہدی موعود کا یہ ہے کہ اُس کے وقت میں ماہ رمضان میں خسوف کسوف ہوگا اور پہلے اُس سے جیسا کہ منطوق حدیث صاف بتلا رہا ہے کبھی کسی رسول یا نبی یا محدث کے وقت میں خسوف کسوف کا اجتماع رمضان میں نہیں ہوا۔اور جب سے کہ دنیا پیدا ہوئی ہے کسی مدعی رسالت یا نبوت یا محدثیت کے وقت میں کبھی چاند گرہن اور سورج گرہن اکٹھے نہیں ہوئے۔اور اگر کوئی کہے کہ اکٹھے ہوئے ہیں تو بار ثبوت اس کے ذمہ ہے۔مگر حدیث کا مفہوم یہ نہیں کہ مہدی کے ظہور سے پہلے چاند گرہن اور سورج گرہن ماہ رمضان میں ہوگا کیونکہ اس صورت میں تو ممکنات میں سے تھا کہ چاند گرہن اور سورج گرہن کو ماہ رمضان میں دیکھ کر ہریک مفتری مہدی موعود ہونے کا دعویٰ کرے اور امر مشتبہ ہو جائے کیونکہ بعد میں مدعی ہونا سہل ہے اور جب بعد میں کئی مدعی ظاہر ہوگئے تو صاف طور پر کوئی مصداق نہ رہا۔بلکہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ مہدی موعود کے دعوے کے بعد بلکہ ایک مدت گزرنے کے بعد یہ نشان تائید دعویٰ کے طور پر ظاہر ہو جیسا کہ اِنَّ لمھدینا اٰیتین ای لتائید دعوی مھدینا آیتانِ صاف دلالت کر رہی ہے۔اور اس طور سے کسی مفتری کی پیش رفت نہیں